ایجوکیشن

ننھےخلفاء ،مستقبل کے رہنما: ایم ایس کریٹیو کڈز کی سالانہ تقریبِ تکمیلِ تعلیم، بچوںکی دلکش پیشکشیں اور  چیرمین محمد لطیف خانکا فکر انگیز خطاب

حیدرآباد،اپریل 2026ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی  کا پریپرائمری   شعبہ ایم ایس کریٹیو کڈز کی  سہ روزہ سالانہ گریجویشن تقریب 2026 نہایتشاندار اور روح پرور انداز میں بھارتیہ ودیا بھون، کنگ کوٹھی، حیدرآباد میں منعقدہوئی۔

 

اس سال کی تھیم “Little Khalifs – Leaders of Tomorrow” رکھی گئی، جس نے تقریب کو ایک منفردفکری اور تربیتی جہت عطا کی۔ یہ تقریب ننھے طلبہ کے پری پرائمری مرحلے کی تکمیلاور ایک نئے تعلیمی سفر کے آغاز کی خوشی کا حسین امتزاج تھی۔تقسیم اسنادکی تین روزہ اس تقریب میں  ایمایس کریٹیو  کڈس کے شہر حیدرآباد میں قائم بارہ برانچس  کا احاطہ کیا گیا جن میں ہر دن دو نشستیں (صبح ودوپہر) منعقد ہوئیں، جن میں طلبہ نے مختلف تعلیمی و اخلاقی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

 

پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کےبعد حمد، نعت، استقبالیہ تقریر اور مختلف موضوعات پر تقاریر پیش کی گئیں۔ طلبہ نے سنتِنبویؐ، سخاوت، صحت مند غذا جیسے اہم موضوعات پر مختصر تقاریر کے ذریعے اسلامیاقدار کو اجاگر کیا۔اس موقع پربچوں نے خوبصورت نظمیں، ملی نغمے اور سبق آموز اسکیٹس پیش کیے، جن میں “Sharing is Caring” اور “The Sheepish lion”    “The Lion and the Hare”, “The Boy Who CriedWolf”جیسےموضوعات نے حاضرین کو نہ صرف محظوظ کیا

 

بلکہ اخلاقی پیغام بھی دیا۔ ان سرگرمیوں نےبچوں کے اعتماد، تخلیقی صلاحیتوں اور اسٹیج پریزنس کو نمایاں کیا، جو ایم ایسایجوکیشن اکیڈیمی کے ہمہ جہت تربیتی نظام کی عکاسی ہے۔  ان پیشکشوں کے ذریعے بچوںنے ایمانداری، صفائی، سچائی، اطاعتِ والدین اور باہمی تعاون جیسے اہم اخلاقی اسباقکو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔سہ روزہ تقاریبکی ایک نمایاں خصوصیت بانی و چیئرمین ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی، جناب محمد لطیف خانکا کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس خطاب تھا۔ انہوں نے  تقریب کے ہر سیشن  میں والدین اور اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے اسبات پر زور دیا کہ بچے محض طلبہ نہیں بلکہ “Little Khalifs” ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک مقصدکے تحت پیدا کیا ہے۔

 

انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ وہ صرف بچوں کی جسمانیضروریات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی جذباتی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہدیں۔انہوں نے موجودہ دور کے چیلنجز خصوصاً سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر روشنیڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں “psychological engineering” کے ذریعے بچوں کی سوچ کو متاثر کیاجا رہا ہے، جہاں اصل اقدار کی جگہ وقتی خوشی اور توجہ حاصل کرنے کی خواہش لے رہیہے۔ اس کے تدارک کے لیے انہوں نے “تعلیم کے ساتھ تربیت” کے ماڈل کو ناگزیر قراردیا، جہاں اساتذہ صرف علم دینے والے نہیں بلکہ کردار سازی کرنے والے مربی ہوں۔اپنےخطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں ایسے بچوں کی پرورش کرنی ہے

 

جو باکردار، باہمت اور اللہ سے مضبوط تعلق رکھنے والے ہوں، اور جو معاشرتی دباؤکے بجائے اعلیٰ اخلاقی اقدار کو ترجیح دیں۔تقریب کےہر سیشن کا اختتام تقسیمِ انعامات اور دعائیہ کلمات کے ساتھ ہوا، جہاں طلبہ کیکامیابیوں کو سراہتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button