خواتین کا تحفظ ۔ ہوٹلس، مالس، ہاسٹلس، تعلیمی اداروں کے علاوہ کاروباری میں خفیہ کیمروں کی نشاندہی کیلئے حیدرآباد پولیس کی خصوصی ٹیمیں

حیدرآباد: خواتین کی عزتِ نفس اور شخصی رازداری کو نقصان پہنچانے والے خفیہ کیمروں کا سراغ لگانے کے لیے حیدرآباد پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ہوٹلز، مالز، ہاسٹلز، تعلیمی اداروں کے علاوہ کاروباری اور تجارتی مراکز
میں خفیہ کیمروں کے ذریعے ہونے والے خطرات سے بچاؤ کے لیے “شی نیترا ٹیمیں” تشکیل دی گئی ہیں۔ جمعہ کے روز بشیر باغ میں واقع پرانے کمشنر آفس میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران پولیس کمشنر نے ان خصوصی ٹیموں کو کیمرہ ڈیٹیکٹر آلات فراہم کیے۔
شہر کے کمشنریٹ کے تحت آنے والے سات زونز کے لیے ایک ایک ٹیم تعینات کی گئی ہے، یعنی مجموعی طور پر سات “شی نیترا” خصوصی ٹیمیں کام کریں گی۔ ان ٹیموں کو جدید کیمرہ ڈیٹیکٹرز کے استعمال اور معائنے کے دوران اختیار کیے جانے والے اصول و ضوابط (SOP) پر دو مراحل میں مکمل تربیت دی گئی ہے۔
اس موقع پر کمشنر نے کہا کہ شاپنگ مالز کے ٹرائل رومز، اسپتالوں، ہوٹلز اور ہاسٹلز میں خفیہ کیمرے لگا کر خواتین کی رازداری کی خلاف ورزی کرنے والے واقعات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ سات ٹیمیں پورے شہر میں باقاعدگی سے سخت چیکنگ کریں گی۔
متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے احاطے میں کسی بھی نجی جگہ پر خفیہ کیمرے موجود نہ ہوں۔انہوں نے خبردار کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا، اور اگر غفلت یا خفیہ کیمرے پائے گئے تو متعلقہ اداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ضرورت پڑنے پر اداروں اور ذمہ دار ملازمین کو بلیک لسٹ کرنے تک کی کارروائی کی جائے گی۔ کمشنر نے بتایا کہ نہ صرف سافٹ ویئر بلکہ ہارڈ ویئر کی شکل میں بھی خفیہ کیمرے نصب کر کے غلط استعمال کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، اور مستقبل میں ان میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر یہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں ہر ادارے کے لیے “کسٹمر سیفٹی انچارج” مقرر کرنا لازمی ہوگا، جو شی ٹیموں کے ساتھ بطور نودل ایجنسی کام کرے گا۔ ان کو پولیس کی نگرانی میں تربیت دی جائے گی اور کیمرہ ڈیٹیکٹرز
خود اداروں کو فراہم کرنا ہوں گے۔اس پروگرام میں ایڈیشنل سی پی سری نواسولو، خواتین کی حفاظت کے شعبے کی ڈی سی پی ڈاکٹر لاونیا، شی ٹیمز اے سی پی پرسننا اور دیگر افسران شریک ہوئے۔



