آپس میں جڑی 2 بچیوں کا سعودی عرب میں کامیاب آپریشن۔ ماہر ڈاکٹرس کی ٹیم نے 6 گھنٹے تک کی سرجری

نئی دہلی: سعودی عرب میں ڈاکٹروں نے پیدائش کے وقت سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی فلپائن کی 2 بچیوں کو کامیاب آپریشن کے ذریعہ الگ کر دیا ہے۔ یہ آپریشن سعودی عرب کے شہر ریاض واقع کنگ عبداللہ اسپیشلائزڈ چلڈرن ہاسپیٹل (کے اے ایس سی ایچ) میں انجام دیا گیا۔
اسے دنیا میں جڑے ہوئے بچوں پر کی جانے والی کامیاب ترین سرجریز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 22 ماہر ڈاکٹرس کی ٹیم نے 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی سرجری کے بعد اس آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔ اس دوران بچیوں کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا تاہم ڈاکٹرز نے جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی مدد سے یہ کارنامہ انجام دیا۔
اس کامیاب آپریشن کے بعد بچیوں کی والدہ خوشی سے آبدیدہ ہو گئیں اور ڈاکٹرز کی ٹیم تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔’سعودی گزٹ ڈاٹ کام‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سرجری کی قیادت سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے سربراہ اور کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کی۔ آپریشن میں 22 ڈاکٹرز، سرجن، نرسز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل ٹیم شامل تھی۔
ڈاکٹر الربیعہ کے مطابق آپریشن تقریباً 6 گھنٹے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں بچیاں سینے اور پیٹ کے حصے سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ ان کا جگر مشترک تھا جبکہ آنتوں کا ایک حصہ بھی آپس میں ملا ہوا تھا، اس وجہ سے سرجری نہایت پیچیدہ تھی۔ تاہم متعدد طبی جانچ اور ماہرین کے مشوروں کے بعد یہ آپریشن کامیابی سے انجام دیا گیا۔
ڈاکٹر الربیعہ کے مطابق جڑی ہوئی ان دونوں بچیوں میں سے ایک پیدائشی طور پر دل کے عارضہ میں مبتلا تھی، جس کی وجہ سے سرجری کے دوران اس کی جان کو زیادہ خطرہ تھا۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے مختلف امیجنگ ٹیسٹ کیے گئے، جن سے تصدیق ہوئی کہ سرجری ممکن ہے۔ اس کے بعد ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن کیا گیا۔
کنجوائنڈ ٹوئنس کیا ہوتے ہیں؟ کنجوائنڈ ٹوئنس سے مراد ایسے جڑواں بچے ہیں جن کے جسم پیدائش کے وقت ہی آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال اس نوعیت کے بچوں کی پیدائش کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں سرجری انتہائی دشوار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت یہ 72ویں کامیاب سرجری ہے۔ یہ طبی سائنس کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔سعودی عرب میں گزشتہ 35 برس کے دوران اس نوعیت کی 150 سے زائد سرجریاں انجام دی جا چکی ہیں۔
مختلف ممالک سے آنے والے کنجوائنڈ ٹوئنس کا علاج اور سرجری کر کے ان کی زندگی کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ اس کامیاب سرجری کے بعد جڑواں بچیوں کے اہل خانہ نے بہترین طبی نگہداشت پر شاہ سلمان اور ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور آپریشن کو کامیاب بنانے والی طبی ٹیم کی بھرپور ستائش کی۔





