صحافی نسیم احمد کا بہیمانہ قتل: جمہوریت کا ایک ستون منہدم، انسانیت شرمسار!
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
حیدرآباد دکن
اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ میں 60 سالہ صحافی نسیم احمد کا مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر قتل کیا جانا محض ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت، جمہوری اقدار، صحافتی آزادی اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت پر ایک کاری ضرب ہے۔ دیوالی کے اشتہار کے سلسلے میں فلور مل پہنچنے والے ایک عمر رسیدہ صحافی کو اس قدر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا جانا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ایک مہذب معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ اب ضروری ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں، حقائق سامنے آئیں اور قصورواروں کو قانون کے مطابق مقرر سزا ملے۔
لیکن اس افسوس ناک واقعے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت گامزن ہے؟ اختلافِ رائے، پیشہ ورانہ تنازعے اور معمولی معاملات کو تشدد اور قتل تک پہنچا دینے والی ذہنیت کو کس طرح پنپنے دیا جا رہا ہے؟ کیا انسانی جان کی حرمت ہمارے اجتماعی شعور سے محو ہوتی جا رہی ہے؟ کیا اختلافات کو گفت و شنید اور قانون کے ذریعے حل کرنے کی روایت دم توڑ رہی ہے؟ یہ سوالات صرف ہاپوڑ کے ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے پورے سماجی اور قومی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
نسیم احمد ایک صحافی تھے۔ صحافت محض روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوام اور معاشرے کے درمیان رابطے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مختلف طبقات، اداروں اور افراد سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ان کے کام سے اختلاف ہو سکتا ہے، ان کے مطالبات پر اعتراض کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی بھی اختلاف کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کسی صحافی کا طرزِ عمل قابلِ اعتراض ہو، تب بھی اس کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کسی کی جان لے لینے کا حق کسی فرد یا گروہ کو حاصل نہیں۔
اس واقعے کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ایک شخص کی موت کے ساتھ ایک خاندان کی دنیا اجڑ گئی۔ نسیم احمد کی چھوٹی بیٹی منتاشا کی شادی 14 نومبر کو طے تھی۔ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں، خوشیوں کے چراغ روشن ہونے والے تھے، لیکن ایک مبینہ پُرتشدد واقعے نے ان خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ جس باپ کو اپنی بیٹی کو دلہن بنتے دیکھنا تھا، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ جس گھر میں شادی کے گیت گونجنے تھے، وہاں آہوں اور سسکیوں نے جگہ لے لی۔ یہ صرف ایک خاندان کا ذاتی المیہ نہیں، بلکہ انسانی بے حسی کی وہ دردناک تصویر ہے جو ہر صاحبِ دل کو غم زدہ کر دیتی ہے۔
*ہندو مسلم اتحاد کو کمزور کرنے والی ذہنیت
ہندوستان کی اصل طاقت اس کی کثرت میں وحدت، مذہبی رواداری اور مشترکہ تہذیبی وراثت میں مضمر ہے۔ اس سرزمین نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کے ماننے والوں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ ہندو اور مسلمان اس ملک کی تاریخ، تہذیب، معیشت، ادب، فنون اور قومی زندگی کے مشترکہ معمار رہے ہیں۔ ان کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کی ایسی مثالیں موجود ہیں جن پر ہندوستان بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔
مگر افسوس کہ آج سماج میں ایسی ذہنیت کو فروغ مل رہا ہے جو انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے مذہبی شناخت، ذات اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر آمادہ ہے۔ فرقہ پرست عناصر کی سیاست اور نفرت پر مبنی طرزِ فکر سماجی ہم آہنگی کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں تشدد کے واقعات محض انفرادی جرائم نہیں رہتے، بلکہ معاشرے میں موجود عدم برداشت اور باہمی اعتماد کے بحران کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہاپوڑ کے اس مخصوص واقعے میں مذہبی محرک ثابت ہونے کی اطلاع موجود نہیں؛ اس لیے اسے بلا تحقیق فرقہ وارانہ قتل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، اس واقعے کے تناظر میں یہ سوال پوری قوت سے اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں اختلاف اور تنازعے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے؟ کیا نفرت اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات ہماری مشترکہ تہذیبی اقدار کو نقصان نہیں پہنچا رہے؟
**فرقہ پرستی کسی ایک مذہب یا برادری کے لیے نہیں، پورے ہندوستان کے لیے خطرہ ہے۔** جو عناصر مذہبی منافرت کو ہوا دیتے ہیں، انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرتے ہیں اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہندوستان کی قومی یکجہتی پر بدنما داغ ہیں۔ ان کی سرگرمیاں اس ملک کی اس بنیادی روح کے منافی ہیں جس نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک قومی پرچم کے نیچے متحد رکھا ہے۔
*قومی یکجہتی کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری
ہندوستان کی قومی یکجہتی محض آئین کی کتابوں میں درج ایک تصور نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کے روزمرہ تعلقات، مشترکہ زندگی اور باہمی اعتماد کا نام ہے۔ یہ یکجہتی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں اور اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سماج کا ہر ذمہ دار طبقہ نفرت، تشدد اور عدم برداشت کے خلاف اپنی آواز بلند کرے۔ سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، دانش وروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں رواداری، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی اور اشتعال انگیزی کے بجائے حقائق، ذمہ داری اور انسانی اقدار کو مقدم رکھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ نسیم احمد کے قتل کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ اگر تفتیش میں یہ ثابت ہو کہ ملزمین نے انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا، تو کسی مصلحت یا دباؤ کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ انصاف کی فراہمی صرف مقتول کے خاندان کا حق نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی صحافی کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران تشدد، دھمکی یا جان کے خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صحافت کو خوف زدہ کرنا دراصل عوام کے حقِ معلومات کو متاثر کرنا ہے، اور جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
* نفرت کی سیاست نہیں، انسانیت کی پاس داری ضروری ہے
نسیم احمد کی المناک موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نفرت کا کوئی بھی بیج بالآخر پورے معاشرے کے لیے زہر آلود ثمرات پیدا کرتا ہے۔ جب انسان کی جان، عزت اور حرمت کو مذہبی شناخت، ذاتی اختلاف یا معاشی مفاد سے کمتر سمجھا جانے لگے تو معاشرتی زوال کی نشانیاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کی شناخت اس کی مشترکہ تہذیب سے ہے۔ دیوالی کی روشنیاں ہوں یا عید کی خوشیاں، ہولی کے رنگ ہوں یا محرم کی یادیں، اس ملک کی تہذیبی زندگی مختلف روایتوں کے باہمی احترام سے تشکیل پاتی ہے۔ ان روایتوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے والے عناصر دراصل اس مشترکہ ورثے کو نقصان پہنچاتے ہیں جسے ہماری نسلوں نے محبت، قربانی اور باہمی تعاون سے سنبھالا ہے۔
نسیم احمد کی موت پر سوگ منانا ضروری ہے، لیکن محض تعزیتی بیانات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ اس واقعے سے سبق حاصل کیا جائے، تشدد کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا جائے اور انصاف کی فراہمی تک آواز بلند رکھی جائے۔ مقتول کے اہلِ خانہ کو انصاف ملنا چاہیے اور ان کی بیٹی کے سر سے چھن جانے والے باپ کے سائے کا درد پورے معاشرے کو محسوس کرنا چاہیے۔
**یاد رکھیے، ہندوستان کو کمزور کرنے کے لیے اس کی سرحدوں پر حملہ ضروری نہیں؛ اس کے شہریوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا بھی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا ایک خطرناک راستہ ہے۔** جو طاقتیں ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور انسانوں کو مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ ملک کے جمہوری، تہذیبی اور آئینی تشخص کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کے مقابلے میں محبت، انصاف، رواداری اور بھائی چارے کی آواز کو زیادہ توانا بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نسیم احمد اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی موت سے اٹھنے والے سوالات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ کیا ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں اختلاف کا جواب دلیل ہو، تشدد نہیں؟ جہاں مذہبی شناخت انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کے باہمی احترام کا ذریعہ بنے؟ جہاں ہر شہری کو بلا خوف و خطر زندگی گزارنے اور اپنے فرائض انجام دینے کا حق حاصل ہو؟
ان سوالات کا جواب ہماری اجتماعی سوچ اور عملی کردار میں پوشیدہ ہے۔
**نسیم احمد کے قتل کی غیر مشروط مذمت، ان کے اہلِ خانہ کے لیے انصاف کا مطالبہ اور فرقہ پرستی و تشدد کے خلاف مضبوط اجتماعی آواز ہی اس وقت ہماری سب سے بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے۔**
کیونکہ ہندوستان کی اصل پہچان نفرت نہیں، محبت ہے؛ تقسیم نہیں، اتحاد ہے؛ اور تشدد نہیں، انسانیت ہے



