قرآن سے تعلق کو سال بھر برقرار رکھیں، سال میں کم از کم دو مرتبہ ختمِ قرآن کا معمول بنائیں — مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

قرآن سے تعلق کو سال بھر برقرار رکھیں، سال میں کم از کم دو مرتبہ ختمِ قرآن کا معمول بنائیں — مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 23 اکتوبر (پریس ریلیز): خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے جمعہ کے خطاب میں قرآن مجید کی عظمت، تلاوت کی فضیلت اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت اور نورِ ہدایت ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔ یہ کتاب انسانیت کے لیے سرچشمۂ ہدایت، روحانی سکون، اخلاقی تربیت اور فلاحِ دارین کا ذریعہ ہے۔ مسلمان کی حقیقی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کو اپنی زندگی کا مستقل معمول بنائے، اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھے اور اس کی تعلیمات کو اپنے کردار و عمل میں جگہ دے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید محض الفاظ و حروف کا مجموعہ یا رسمی تلاوت تک محدود کتاب نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کا اپنے بندوں سے خطاب اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی کا ابدی منشور ہے۔ اس کی تلاوت عبادت، اس میں تدبر حصولِ معرفت، اس کے احکام کی پابندی تقاضائے بندگی اور اس کی تعلیمات کی اشاعت عظیم دینی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل فرماکر انسانیت کو وہ دستورِ حیات عطا فرمایا جس میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور معاشرتی زندگی کے بنیادی اصول واضح کیے گئے ہیں۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ وحیِ الٰہی کا آغاز ہی علم و قرأت کے پیغام سے ہوا۔ غارِ حرا میں نازل ہونے والی پہلی وحی کا ابتدائی حکم ’’اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ‘‘ اس حقیقت کا روشن اعلان ہے کہ اسلام علم، شعور، معرفت اور ہدایت کا دین ہے۔ قرآن مجید نے انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و عمل کی روشنی عطا کی اور اسے اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنے، کائنات میں غور و فکر کرنے اور زندگی کو صالح بنیادوں پر استوار کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی تلاوت انسان کے لیے شرف و سعادت ہے۔ زبان جب کلامِ الٰہی کی تلاوت کرتی ہے تو دل کو روحانی بالیدگی حاصل ہوتی ہے، فکر کو پاکیزگی ملتی ہے اور انسان کے اندر نیکی، تقویٰ اور اصلاحِ نفس کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو بہترین افراد قرار دیا۔ اسی طرح قرآن کے ایک حرف کی تلاوت پر اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ تعلیمات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق روزانہ تلاوت کا اہتمام کرے اور قرآن سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی مجالس بھی حصولِ رحمت و سکینت کا ذریعہ ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں جمع ہوکر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے اور باہم اس کا درس لیتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔ اس لیے گھروں، مساجد اور تعلیمی اداروں میں قرآنی مجالس، درسِ قرآن اور فہمِ قرآن کے حلقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قرآن مجید کی حفاظت کا الٰہی وعدہ
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ قرآن مجید کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی ابدی حفاظت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ‘‘، یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (سورۃ الحجر: 9)
انہوں نے کہا کہ زمانے بدلتے رہے، تہذیبیں عروج و زوال سے گزرتی رہیں اور انسانی علوم و تحقیقات میں وسعت پیدا ہوتی رہی، لیکن قرآن مجید کی ہدایت، دعوتِ توحید اور اخلاقی تعلیمات اپنی اہمیت کے ساتھ برقرار ہیں۔ اس کے معارف و نکات پر جتنا غور کیا جائے، فہم و تدبر کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے ہمیشہ تلاوت کے ساتھ تدبر اور عمل پر زور دیا ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہؒ سے منسوب ختمِ قرآن کی ترغیب
مولانا صابر پاشاہ قادری نے قرآن مجید سے مستقل وابستگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ فقہِ اسلامی کے عظیم امام حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سال میں دو مرتبہ قرآن مجید مکمل کرنے کی ترغیب منسوب ہے۔ اس نسبت سے حاصل ہونے والا اہم پیغام یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کو محض رمضان المبارک یا کسی خاص موقع تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ پورے سال اس کا اہتمام جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ سال میں کم از کم دو مرتبہ ختمِ قرآن کا معمول قائم کرنا ایک مفید ہدف ہوسکتا ہے، جس سے قرآن کے ساتھ مسلسل تعلق برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ مقدار فرض یا واجب نہیں، بلکہ تلاوت کی پابندی اور شوق پیدا کرنے کے لیے ایک ترغیبی معمول ہے۔ ہر شخص کو اپنی مصروفیات، صحت اور استعداد کے مطابق تلاوت کا نظام بنانا چاہیے۔ اس ضمن میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری رمضان میں دو مرتبہ قرآن کے دور کا واقعہ بھی قرآن کی مراجعت اور مسلسل تعلق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
قرآن کی تلاوت اور قیامت کی شفاعت
مولانا نے احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں کہا کہ قرآن مجید کی تلاوت دنیا میں روحانی سکون اور آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ‘‘، یعنی قرآن پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرے گا۔ (صحیح مسلم)
انہوں نے کہا کہ قرآن پڑھنے میں دشواری محسوس کرنے والوں کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ حدیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے لیے دو اجر کی بشارت ہے جو مشقت کے باوجود قرآن پڑھتا ہے۔ اس لیے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو درست مخارج و تجوید کے ساتھ تلاوت سیکھنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ والدین اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلائیں اور اساتذہ طلبہ میں تلاوت کے ساتھ فہمِ قرآن کا شوق بھی پیدا کریں۔
منتخب سورتوں کی فضیلت اور فہمِ قرآن کی ضرورت
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ قرآن مجید کی تمام سورتیں اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہیں، البتہ بعض سورتوں اور آیات کی خصوصی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں حمدِ باری تعالیٰ، عبادت اور ہدایت کی دعا جمع ہے؛ سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران کی تلاوت کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے؛ سورۃ الاخلاص توحید کا جامع بیان ہے؛ آیت الکرسی عظمتِ الٰہی کی ترجمان ہے؛ جب کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی تعلیم دیتی ہیں۔ جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام بھی اہلِ علم کے نزدیک معروف عمل ہے۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ بعض دیگر سورتوں کے مخصوص فضائل کے بارے میں مختلف درجے کی روایات منقول ہیں، اس لیے ان کے بیان میں تحقیق اور احتیاط ضروری ہے۔ قرآن کی عمومی تلاوت کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے؛ لہٰذا مسلمان کو غیر ثابت شدہ روایات پر انحصار کرنے کے بجائے قرآن کی تلاوت، فہم اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
قرآن کو زندگی کا حصہ بنائیں
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ قرآن مجید کا حقیقی حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کیا جائے، اس کی اخلاقی تعلیمات کو اپنایا جائے اور اس کی ہدایات کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ صرف تلاوت پر اکتفا کرنے کے بجائے مستند ترجمہ اور معتبر تفسیر کے ذریعے قرآن کے معانی سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ روزانہ کچھ وقت تلاوت کے لیے مختص کرنا، ایک آیت کے مفہوم پر غور کرنا، بچوں کو قرآن سکھانا اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اختیار کرنا ہر مسلمان کے معمولات کا حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کو گھروں کی الماریوں، مساجد کے طاقچوں یا رمضان المبارک کی محفلوں تک محدود رکھنا مناسب نہیں؛ بلکہ اسے زندگی کا رفیق بنانا چاہیے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی صبح تلاوت سے روشن اور جن کے کردار قرآن کی تعلیمات سے منور ہوتے ہیں۔ قرآن سے مضبوط تعلق انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا، برائی سے بچنے کا شعور دیتا اور آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرتا ہے۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت، صحیح فہم، اخلاص کے ساتھ عمل اور اس کی تعلیمات کی اشاعت کی توفیق عطا فرمائے، دلوں کو نورِ قرآن سے منور کرے اور آنے والی نسلوں کو قرآن کا سچا خادم بنائے۔ آمین۔



