آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام سابق وزیر آصف پاشاہ کا تعزیتی اجلاس

آصف پاشاہؒ کی تعلیمی و ملی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ، مذہبی و ملی بنیادوں پر خدمات ناقابل فراموش
آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس
حیدرآباد(پریس نوٹ)سابق وزیرِ قانون اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے بانی و سابق صدر آصف پاشاہ کی تعلیمی، ملی اور سماجی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے انفرادی سطح پر اور ادارہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے جو ہمہ جہت خدمات انجام دیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں
۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام آصف پاشاہ کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہ تعزیتی اجلاس علی گڑھ کلب، بشیر باغ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے کی۔
مقررین نے کہا کہ ملتِ اسلامیہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے آصف پاشاہ نے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور مرحوم نے ایم اے احمد سمیت متعدد دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم کے تعاون سے بے شمار ملی و سماجی خدمات انجام دیں۔اس موقع پر شاہد حسین (نائب صدر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن) نے آصف پاشاہ کے ساتھ اپنے قدیم تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے نہایت سنجیدگی اور ملت کے درد کے ساتھ کام کیا۔ایس اے ہدیٰ آئی پی ایس (نائب صدر سوسائٹی) نے کہا کہ آصف پاشاہ کی زندگی تعلیمی و سماجی خدمات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور انہوں نے تمام کام منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیئے۔
مولانا حامد محمد خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو بھرپور زندگی عطا کی، جس کا انہوں نے بہترین استعمال کیا۔ وہ سادہ مزاج، باوقار اور اخلاص و اہلیت سے بھرپور شخصیت کے مالک تھے۔سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ایم ایس فاروق نے آصف پاشاہ کے ساتھ اپنے گہرے اور خاندانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 45 برس سے ادارے سے وابستہ تھے اور ہر معاملے میں مشاورت فرماتے تھے، حتیٰ کہ والد کی طرح شفقت کیا کرتے۔
انہوں نے 1976ء میں سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ تاریخی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تعلیمی اداروں کے قیام اور ملت میں تعلیمی شعور بیدار کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آصف پاشاہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ وجئے واڑہ میں ایک تعلیمی کانفرنس منعقد کی جائے، جس کی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز(گواہ ویکلی) نے مرحوم کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آصف پاشاہ نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کے لیے مشہور تھے
۔ ان کے انتقال سے قومِ مسلم خود کو قیادت کی سطح پر یتیم محسوس کر رہی ہے۔ مذہبی اور ملی بنیادوں پر ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے کہا کہ آصف پاشاہ نے پوری زندگی نظم و ضبط، عبادات، مطالعہ قرآن، خدمتِ خلق اور نئی نسل میں تعلیمی شعور بیدار کرنے میں گزاری۔ وہ سادگی پسند اور باعمل انسان تھے
۔اجلاس میں احمدالدین(شاہ جہاں گروپ آف کالجس)،اطہراحمد، عبداللہ مرزا، محمد طاہر فراز، محمد معین الدین احمد، سمرین منیر کے علاوہ آصف پاشاہ کے فرزندان ظہور احمد، آفاق تنویر اور دختر حسنیٰ انجم پاشاہ نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر سجاد شاہد، ضمیر احمد، ڈاکٹر منیر، عثمان احمد، افتخار حسین، محمد علی فراست، مسعود اے صدیقی، فوائد اللہ حق،ڈاکٹرنیئر فروزن، احمد بشیرالدین فاروقی، نعیم اللہ شریف اور دیگر معززین موجود تھے۔جلسے کا آغاز محمد معین الدین کی قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ آخر میں ایم ایس فاروق نے شکریہ ادا کیا۔




