جرائم و حادثات

حیدرآباد کے نامپلی میں فارنسک سائنس لیبارٹری میں آگ لگنے کا واقعہ – کئی اہم کیس کے فائلس تباہ ہونے کی اطلاع

حیدرآباد کے نامپلی میں واقع اسٹیٹ فارینسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) میں پیش آنے والا بڑا آتش زدگی کا حادثہ شدید بحث و تشویش کا سبب بن گیا ہے۔

 

یہ واقعہ صرف املاک کے نقصان تک محدود نہیں دکھائی دیتا بلکہ ریاست بھر میں سنسنی پھیلانے والے کئی اہم مقدمات کی تفتیش کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔متحدہ آندھرا پردیش کے دور سے لے کر نئی ریاست کے قیام کے بعد تک سیاسی ہلچل پیدا کرنے والے

 

متعدد اہم مقدمات سے متعلق کلیدی شواہد اس وقت اسی لیبارٹری میں محفوظ ہیں۔حالیہ عرصے کے انتہائی متنازع فون ٹیپنگ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں ضبط کی گئی ہارڈ ڈسکس اور ڈیجیٹل ڈیٹا کا تجزی ہاسی لیبارٹری میں کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوا ’’ووٹ کے بدلے نوٹ‘‘ کیس سے متعلق آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کی اصل فائلیں بھی یہیں موجود کمپیوٹروں میں محفوظ بتائی گئی ہیں۔

 

ایسے وقت میں جب ان اہم مقدمات کی تفتیش زور و شور سے جاری ہے،شواہد کے مرکز سمجھی جانے والی ایف ایس ایل لیبارٹری میں آگ لگنے پر کئی طرح کے شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

 

اگر یہاں کے کمپیوٹرز اور سرورز مکمل طور پر جل گئے تو ان مقدمات میں ملوث ملزمین کو سزا دلانے والے نہایت اہم ڈیجیٹل شواہد ہمیشہ کے لیے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button