آگ نے پورا گھر نگل لیا: جڑواں بچوں سمیت 6 زندگیاں ایک لمحے میں خاکستر – ایک ہی خاندان سے اٹھے 6 جنازے
لکھنؤ _ اترپردیش کے شہر میرٹھ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں کپڑے کے تاجر کے خاندان کے 6 افراد زندہ جل گئے۔ مرنے والوں میں جڑواں بچیوں سمیت پانچ بچے شامل ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تاجر نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے اور اسی دوران دو منزلہ مکان میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔
واقعے کے وقت گھر میں دو خواتین اور 5 بچے موجود تھے، جو شعلوں میں پھنس گئے۔ مقامی افراد نے مکان سے دھواں اٹھتے دیکھا تو فوراً پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی۔ گلی تنگ ہونے کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو اندر جانے میں دشواری پیش آئی، چنانچہ عملہ پڑوسی کی چھت کے راستے مکان تک پہنچا۔
تقریباً 30 منٹ تک خاندان کے افراد آگ میں گھرے رہے۔ ریسکیو ٹیم نے سامنے والے مکان سے سیڑھی لگا کر خواتین اور بچوں کو باہر نکالا اور فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں رخسار (30) اور پانچ بچوں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 ماہ کی جڑواں بچیاں نابیہ اور عنایت بھی شامل ہیں۔ تاجر کی والدہ امیر بانو (55) اور ایک پڑوسی شدید جھلس گئے ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔
یہ واقعہ لیساری گیٹ پولیس اسٹیشن کے کِدوئی نگر علاقے میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق اقبال عرف عاصم اپنے بھائی فاروق کے ساتھ مسجد گئے تھے۔ گھر میں اہلیہ رخسار، والدہ امیر بانو اور بچے مہوش (12)، حماد (4)، عددس (3)، نابیہ اور عنایت موجود تھے۔ بچے کھیل رہے تھے جبکہ خواتین کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
فائر بریگیڈ نے تقریباً دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ پولیس کی ابتدائی جانچ میں شارٹ سرکٹ کو ممکنہ سبب قرار دیا گیا ہے، تاہم مقامی افراد گیس لیکیج کا شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔ نعشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس عہدیداروں کے مطابق مکان میں کپڑوں کا ذخیرہ بھی موجود تھا، جس سے آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی سِوال خاص کے رکن اسمبلی غلام محمد سمیت ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور اسپتال میں اہل محلہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ 6 میتوں کے جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔



