مسجد کے امام صاحب کی بیٹی کا قتل۔ سہارنپور کے ایک مدرسہ کے مہتمم کے بیٹے اور اس کے دوست کی گھنائونی حرکت، دونوں گرفتار

سہارنپور (ایس چودھری)ضلع سہارنپور کے ایک مدرسہ کے مہتمم کے بیٹے قاری طیب اور اس کا ایک دوست محمد آصف دونوں چندہ کرنے کے لئے وجے واڑہ آندھرا پردیش جاتے تھے ۔ وہاں کے امام صاحب انکا چندہ کراتے تھے اور انکو اپنے گھر پر ٹھہراتے تھے ، وہ دونوں ان کی لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر سہارنپور لے آئے۔ یہاں لانے کے بعد لڑکی کا جنسی استحصال کیا گیا اورپھر اسے ہتھنی کنڈبیراج پر لے گئے اور اسے یمنا ندی میں پھینک دیا گیا۔ لڑکی جو نقدی اور زیورات اپنے ساتھ لائی تھی وہ انھوں نے لے لی۔ اس دوران آندھرا پردیش پولس لڑکی کی تلاش میں سہارنپور پہنچی، پولس نے ملزم اور اس کے دوست کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے پورے واقعے کا انکشاف کیا۔آندھرا پردیش اور کوتوالی منڈی پولس نے دونوں کو ساتھ لے کر لاش برآمد کرنے کےلیے ندی میں سرچ آپریشن چلایا، لیکن اس کی لاش نہیں مل سکی، پولس نے ملزمین سے لوٹا ہوا دس تولہ سونا بھی برآمد کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ آصف شادی شدہ ہے، آندھرا پردیش کے وجے واڑہ  کی لڑکی کی حیدرآباد میں آصف سے ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان دوستی ہوگئی اور فون پر بھی بات چیت ہونے لگی کچھ دن قبل آصف اپنے دوست طیب کے ساتھ لڑکی سے ملنے دہلی گیا اور اسے کار سے اپنے ساتھ سہارنپور لے آیا آصف نے ضلع میں کئی مقامات پر کرائے کے مکان میں لڑکی کو رکھا۔ وجے واڑہ میں اہل خانہ نے لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی، کال ڈٹیل کی بنیاد پر آندھرا پردیش پولس پیر کی صبح سہارنپور کے کوتوالی منڈی پہنچی، مقامی پولس کی مدد سے آصف اور طیب کو پکڑلیاگیا ، آصف نے لڑکی کو ندی میں دھکا دینے کی بات کو قبول کرلیا ہے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ ایس ایس پی ایس چنپا نے بتایاکہ وجے واڑہ میں معاملہ درج ہے ، ملزمین کو گرفتار کرکے پولس کے حوالے کردیاگیا ہے لڑ کی کی نعش کی تلاش جاری ہے۔