19 برس بعد بھی قاتل بے نقاب نہ ہو سکا – سی بی آئی بھی بے بس – عایشہ میراں کیس انجام تک پہنچا مگر انصاف ادھورا

ملک بھر میں سنسنی پھیلانے والا عایشہ میراں کیس بند، 19 سالہ قانونی جدوجہد رائیگاں
ملک بھر میں سنسنی پیدا کرنے والا عایشہ میراں قتل کیس بالآخر بند کر دیا گیا ہے۔ تقریباً 19 برس تک انصاف کے لئے لڑنے والے والدین کی قانونی جدوجہد بے نتیجہ ثابت ہوئی۔
تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے کہا ہے کہ کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے مقدمہ بند کیا جا رہا ہے۔ ایجنسی اصل مجرم کا تعین کرنے میں ناکام رہی اور عدالت میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی۔
یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو ضلع کرشنا کے ابراہیم پٹنم میں واقع خواتین کے ایک ہاسٹل میں عایشہ میراں کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس معاملے نے اُس وقت ریاست بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد 2019 میں مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی نے دوبارہ جانچ شروع کی تھی اور تقریباً چھ برس تک تحقیقات جاری رکھیں، مگر ادارے کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی نیا ثبوت حاصل نہیں ہوا۔
اس کیس میں ملزم قرار دیے گئے ستیہَم بابو کو پہلے ہی رہائی مل چکی ہے۔ دوسری جانب عایشہ میراں کی والدہ نے مطالبہ کیا تھا کہ دوبارہ جانچ کے لئے محفوظ کی گئی بیٹی کی باقیات انہیں واپس کی جائیں۔
سی بی آئی عدالت نے حکم دیا ہے کہ 27 فروری کو عایشہ میراں کی تدفین مذہبی طریقے سے ادا کی جائیں۔ اس طرح طویل عرصے سے جاری یہ مقدمہ بغیر کسی حتمی نتیجے کے اختتام کو پہنچ گیا۔



