جرائم و حادثات

بھائی نے بہن کا قتل کرکے نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے تالاب میں پھینک دئیے۔ حیدرآباد میں غیر انسانی واقعہ

حیدرآباد ۔ ایک ہولناک واقعہ میں ایک شخص نے جائیداد کے تنازعہ پر اپنی بڑی بہن کو قتل کر کے اس کی نعش کے ٹکڑے کیے اور انہیں عبداللہ پورمیٹ کے ایک تالاب میں پھینک دیا۔

 

بعد ازاں اس شخص نے خود پولیس سے رجوع کرتے ہوئے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی مگر پولیس کو اس پر شبہ ہوا اور تفتیش کے دوران اس سے پوچھ گچھ کی گئی جس کے نتیجے میں اسے اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

گرفتار شدگان کی شناخت پپو رام کماوت، راکیش کماوت اور سنیل کمار کے طور پر ہوئی ہے جو سب ہریانہ کے رہنے والے ہیں۔

 

پولیس کے مطابق پپو رام اور اس کی بیوہ بہن لیلا دیوی نے چند سال قبل 120 مربع گز کا ایک پلاٹ خریدا تھا۔ پپو رام نے پلاٹ اپنے نام پر رجسٹر کرا لیا تھا جبکہ گزشتہ چند ماہ سے لیلا دیوی مطالبہ کر رہی تھیں کہ پلاٹ کو تقسیم کر کے اس کا آدھا حصہ ان کے نام منتقل کیا جائے۔

 

پپو رام اپنی بہن کو اس کا حصہ دینا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے پلاٹ اپنے پاس رکھنے کے لیے اپنی بہن کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کام کے لیے اپنے دوستوں راکیش اور سنیل کی مدد لی۔ “28 فروری کو پپو رام، راکیش اور سنیل نے خاتون کو اس کے گھر میں گلا گھونٹ کر قتل کیا اور نعش کو وہیں رکھا

 

تاکہ مناسب موقع ملنے پر اسے ٹھکانے لگایا جا سکے۔ چار دن بعد 2 مارچ کو انہوں نے نعش کو کار میں عبداللہ پورمیٹ کے پدا چیروو لے جا کر پاوں کاٹ دئیے اور نعست کے ٹکڑوں کو بیاگ اور پلاسٹک کوورمیں ڈال کر تالاب میں پھینک دیا۔

 

قتل کے بعد نعست کو ٹھکانے لگانے کے بعد پپو رام عبداللہ پورمیٹ پولیس اسٹیشن پہنچا اور اپنی بڑی بہن لیلا کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے گمشدگی کا مقدمہ درج کر کے خاتون کی تلاش شروع کر دی۔

 

تحقیقات کے دوران پولیس کو پپو رام کے رویے پر شبہ ہوا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے اپنی بہن کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button