بھائیوں کے ہاتھوں بہن کا خون : جائیداد کے تنازعہ نے مقدس رشتہ کو کر دیا داغدار
بھائی اور بہن جیسے مقدس رشتے کو شرمسار کر دینے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اترپردیش کے ضلع کانپور دیہات میں پیش آیا، جہاں جائیداد کے تنازعہ نے خونی رخ اختیار کر لیا۔
کانپور دیہات ضلع کے موسی نگر پولیس اسٹیشن علاقے کے مرتضیٰ نگر میں 35 سالہ ریشما کو مبینہ طور پر اس کے سگے بھائیوں معین الدین اور نواز نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق بھائیوں نے لوہے کی راڈ سے اس کے سر پر پے در پے حملے کیے، جس کے نتیجہ میں اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سنسنی اور خوف کی فضا پھیل گئی۔
ریشما کی نعش کمرے میں خون میں لت پت حالت میں ملی، جسے دیکھ کر مقامی افراد سکتے میں آ گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور نعش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا، جبکہ فارنسک ٹیم نے شواہد اکٹھا کر لیے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ریشما سکندرا علاقے کی رہنے والی تھی اور گزشتہ چھ برس سے شوہر سے نا اتفاقی کے باعث اپنے میکے میں رہ رہی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل اس کے والد احمد حاجی کا انتقال ہو گیا تھا، جنہوں نے مغل روڈ کے کنارے واقع اپنے مکان کی زمین کا کچھ حصہ ریشما کے نام کر دیا تھا۔ اسی مکان پر پردھان منتری شہری رہائشی اسکیم کے تحت تعمیراتی کام بھی جاری تھا۔
متوفیہ کی بڑی بہن سیما کے مطابق، ریشما اکثر اپنے بھائیوں کی جانب سے ہراسانی اور ظلم کی شکایت کرتی تھی۔ ہفتہ کی دوپہر تقریباً چار بجے آخری بار اس سے بات ہوئی، جس میں اس نے بتایا کہ بھائی اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور وہ شدید خوف میں مبتلا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مکان کے تنازعہ کو لے کر کافی عرصے سے بھائیوں اور ریشما کے درمیان کشیدگی چل رہی تھی، جو آخرکار ایک ہولناک انجام تک جا پہنچی۔ ہفتہ کے روز جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ بھائیوں نے مبینہ طور پر بہن کو ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ عہدیدار موقع پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر معاملہ جائیداد کے تنازعہ سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ گھر والوں کے بیانات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے اور ملزمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔



