جرائم و حادثات

درگاہ کے سامنے اشتعال انگیز حرکات، ہندوتوا کی خاتون لیڈر سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج

بنگلورو _ کرناٹک کی بیلگاوی ضلع  پولیس نے منگل کے روز ہندو تنظیموں سے وابستہ 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جن میں مہاراشٹرا کی رہائشی ہرشیتا ٹھاکر بھی شامل ہیں۔ یہ مقدمہ بیلگاوی ضلع کے مچھے گاؤں میں واقع ایک درگاہ کی طرف تیر چلانے جیسے اشارے کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق گزشتہ اتوار کو مچھے گاؤں میں ایک ہندو تقریب منعقد ہوئی تھی ، جس کے لیے ہرشیتا ٹھاکر کو مدعو کیا گیا۔ تقریب سے قبل گاؤں میں جلوس نکالا گیا، جس میں وہ ایک کھلی گاڑی میں سوار تھیں۔

 

جلوس کے دوران جب گاڑی سید انصاری درگاہ کے سامنے سے گزری تو ہرشیتا ٹھاکر نے درگاہ کی جانب رخ کرتے ہوئے بار بار تیر چلانے جیسے اشارے کیے۔ اس دوران ان کے حامیوں اور مجمع میں موجود بعض افراد نے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔ پولیس کے مطابق ان حرکات سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ بعد ازاں اپنی تقریر میں بھی انہوں نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دیے۔

 

اس واقعہ پر عبدالقادر مجاور کی شکایت پر ہرشیتا ٹھاکر سمیت دیگر 6افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں جن دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں سپریت سمپی، شری کانت کامبلے، بیتپا تاریہل، شواجی شاہاپورکر، گنگارام تاریہل اور کلپا شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button