چھتیس گڑھ: کانکنی مخالف احتجاج کے دوران خاتون پولیس کانسٹیبل کے ساتھ بدسلوکی، دو گرفتار

چھتیس گڑھ: کانکنی مخالف احتجاج کے دوران خاتون پولیس کانسٹیبل کے ساتھ بدسلوکی، دو گرفتار
چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ ضلع میں کانکنی مخالف احتجاج کے دوران تشدد بھڑک اٹھا، جس کے دوران ڈیوٹی پر تعینات ایک خاتون پولیس کانسٹیبل کے ساتھ مشتعل افراد نے بدسلوکی کی اور اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ یہ واقعہ 27 دسمبر کو پیش آیا، تاہم اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق تامنار بلاک کے 14 دیہات کے مکین مجوزہ کوئلہ کانکنی منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ 27 دسمبر کو احتجاج پرتشدد ہو گیا، جس میں ہزار سے زائد افراد نے گاڑیوں کو آگ لگائی، پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، پتھراؤ کیا اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ تعداد میں کم ہونے کے باعث پولیس کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، اسی دوران خاتون کانسٹیبل پیچھے رہ گئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد خاتون کانسٹیبل کو گھیر کر اس کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ خاتون کانسٹیبل ہاتھ جوڑ کر خود کو چھوڑ دینے کی اپیل کرتی نظر آتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ صرف ڈیوٹی انجام دے رہی تھی۔ ایک شخص ایک ہاتھ سے ویڈیو بناتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کے کپڑے کھینچتا اور چپل سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔
اس واقعے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکاش مارکم نے گرفتاریوں کی تصدیق کی۔
ادھر آل انڈیا مہیلا کانگریس نے یہ ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھایا اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
قابل ذکر ہے کہ 12 دسمبر سے مظاہرین لبرا گاؤں کے کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹ (CHP) چوک پر دھرنا دیے ہوئے تھے اور کانکنی سے متعلق گاڑیوں کی آمدورفت روک رکھی تھی۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔



