نوکری ہوم گارڈ کی جائیداد کروڑوں کی

سرکاری ملازمین کی جانب سے ناجائز طریقوں سے دولت جمع کرنے اور رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم بعض اوقات ان کی سرکاری حیثیت اور جمع کی گئی دولت کے درمیان کوئی مطابقت نظر نہیں آتا۔ ایسا ہی ایک چونکا دینے والا معاملہ آندھرا پردیش میں منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں ایک ہوم گارڈ کی بھاری غیر قانونی جائیدادیں برآمد ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔
وجئے نگرم ضلع پولیس دفتر میں ہوم گارڈ کے طور پر خدمات انجام دینے والے سرینواس راؤ کے گھروں پر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے عہدیداروں نے دھاوے کئے۔ وجئے نگرم، گورلا اور وشاکھا پٹنم میں واقع ان کی رہائش گاہوں کی تلاشی کے دوران تقریباً 20 کروڑ روپے مالیت کے ناجائز اثاثوں کا پتہ چلا ہے۔
اے سی بی حکام کے مطابق سرینواس راؤ نے 15 برس تک اے سی بی میں خدمات انجام دیں، جہاں وہ مبینہ طور پر افسران کے دھاووں کی پیشگی اطلاع دے کر رقم وصول کرتا رہا۔ بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد اسے پولیس دفتر منتقل کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اے سی بی عہدیدار سرینواس راؤ کے علاوہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں کے گھروں پر بھی تلاشی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک معمولی ہوم گارڈ کی جانب سے اس قدر خطیر اثاثے جمع کرنے کا معاملہ اس وقت دونوں تلگو ریاستوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اے سی بی ٹیمیں آج علی الصبح سے ہی ریکارڈس کی جانچ میں مصروف ہیں۔



