جرائم و حادثات

سادھو کے بھیس میں گانجہ کی کاشت، تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی میں پجاری گرفتار

حیدرآباد ۔ ریاست تلنگانہ سنگاریڈی ضلع کے نارائن کھیڑ منڈل کے پنچاگام گاؤں میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ مندر کا ایک پجاری جو خود کو گرو مہاراج کہلواتا تھا اور گاؤں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے دس دیہات کے عوام میں روحانی رہنما کے طور پر مشہور تھا دراصل گانجے کی غیر قانونی کاشت اور فروخت میں ملوث پایا گیا۔

 

بھکتوں کو نیکی اور بھکتی کا درس دینے والا یہی پجاری ڈی ٹی ایف ایکسائز عملے کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پنچاگام گاؤں میں کافی عرصے سے فصلوں اور کپاس کے کھیتوں کے درمیان گانجے کی کاشت کی جا رہی تھی۔ ماضی میں جب ایکسائز عملہ جانچ کے لیے گاؤں پہنچا تو ان پر حملے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پنچاگام گاؤں مقامی نارائن کھیڑ کے ایم ایل اے کا آبائی گاؤں ہے۔

 

خفیہ اطلاع ملنے پر ڈی ٹی ایف سی آئی دوباک شنکر، ایس آئیز ہنمنتھ اور انودیپ، اور دیگر عملے انجی ریڈی، ارونا جوتی، شیو کرشنا اور راجیش نے مشترکہ طور پر کارروائی انجام دی۔ جانچ کے دوران مندر کے احاطے میں موجود پھولوں کے باغ میں گانجے کے پودے اگائے جانے کا انکشاف ہوا۔

 

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے گانجے کی کاشت کر رہا تھا اور اسے پیکٹوں میں تیار کر کے فروخت کیا جاتا تھا۔ جمعہ کے روز کی گئی کارروائی میں ڈی ٹی ایف ایکسائز ٹیم نے 685 گانجے کے پودے، 17.741 کلوگرام گانجا، 0.897 کلو گانجے کے بیج، 30 ہزار روپے نقد اور گانجا تولنے کی مشین ضبط کی۔

 

ضبط شدہ گانجے اور پودوں کی مجموعی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ملزم نرسیّا مہاراج کے نام سے گرو اور مندر کے پجاری کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی بیوی فوت ہو چکی ہے اور اس نے اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں کر دی ہیں۔ کچھ عرصہ ایک آشرم میں قیام کے بعد وہ واپس آ کر گاؤں کے مندر میں پجاری بنا تھا۔

 

پوجا کے لیے پھول اگانے کی آڑ میں پھولوں کے ساتھ گانجے کی کاشت کر کے غیر قانونی طور پر اضافی آمدنی حاصل کی جا رہی تھی جس کا پردہ فاش ہونے پر ایکسائز عملے نے کارروائی کی۔اس معاملے میں ضبط شدہ گانجے کے پودوں اور بیجوں کے ساتھ گرو مہاراج نرسیّا کو گرفتار کر کے نارائن کھیڑ ایکسائز اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button