لڑکی بن کر لڑکوں سے دوستی پھر پولیس کے نام سے ڈرا دھمکا کر رقم کی وصوی۔ تلنگانہ کے کریم نگر ضلع کا شاطر نوجوان حیدرآباد میں گرفتار

حیدرآباد ۔ایس آر نگر پولیس نے ایک عادی سائبر مجرم کو گرفتار کر لیا ہے جو خواتین کے نام سے نقلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر اور پھر اپنے آپ کو سائبر کرائم پولیس افسر بن کر معصوم لوگوں کو لوٹ رہا تھا۔
گرفتار ملزم 44 سے زائد سائبر فراڈ کی درخواستوں میں ملوث پایا گیا ہے۔یہ کارروائی 28 جنوری 2026 کو اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ایس وی راگھویندر راؤ، اسٹیشن ہاؤس آفیسر بی سری نواس ریڈی اور ڈیٹیکٹیو انسپکٹر کے سری کانت کی نگرانی میں، ویمن ہیڈ کانسٹیبل **کے دینا کی مدد سے انجام دی گئی۔
ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ShareChat پر جعلی خواتین کے اکاؤنٹس بنا کر لوگوں سے دوستی کرتا تھا۔ اعتماد حاصل کرنے کے بعد وہ متاثرین کے موبائل نمبر لیتا اور بعد میں خود کو سائبر کرائم پولیس افسر ظاہر کر کے فون کرتا تھا۔
ملزم متاثرین کو فحش آن لائن سرگرمیوں کے جھوٹے الزامات لگا کر گرفتاری کی دھمکی دیتا اور “جرمانے” کے نام پر UPI اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں*ض کے ذریعے رقم وصول کرتا تھا۔ شواہد مٹانے کے لیے متاثرین کو موبائل فون فیکٹری ری سیٹ کرنے کی ہدایت بھی دیتا تھا۔
ملزم کی شناخت سائی رام ریڈی عمر 27 سالپیشہ ریپیڈو رائیڈرساکن کریم نگرآبائی مقام پرکال ورنگل تلنگانہ کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس حراست میں تفتیش کے دوران ملزم نے متعدد سائبر فراڈ مقدمات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔موجودہ کیس میں ایک طالب علم کو جعلی سائبر پولیس افسر بن کر دھمکایا گیا اور اس سے 97,540 روپے مختلف ڈیجیٹل لین دین کے ذریعے وصول کیے گئے۔ دھوکہ دہی کا احساس ہونے پر متاثرہ طالب علم نے
نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (NCRP) پر شکایت درج کروائی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔تکنیکی جانچ سے معلوم ہوا کہ ملزم تلنگانہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں درج *ض44 سائبر فراڈ کے معاملے میں ملوث ہے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم اور اس کے ساتھی متعدد سم کارڈز، موبائل فونز، بینک اکاؤنٹس اور UPI اسکینرز کا استعمال کرتے تھے۔ دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے وہ مقامی دکانداروں کے بینک اکاؤنٹس کا بھی غلط استعمال کرتے تھے۔
پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ پولیس کبھی بھی فون کال، UPI یا کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے جرمانہ یا رقم کا مطالبہ نہیں کرتی۔ قانون میں “ڈیجیٹل گرفتاری” جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔ایسی کسی بھی کال کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر دیں۔



