جرائم و حادثات

دھارواڑ میں 20 سالہ ذکیہ کے قتل کا معمہ حل، پولیس نے 12 گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا

کرناٹک کے دھارواڑ شہر کے مضافات میں 20 سالہ لڑکی کے قتل کے معاملہ میں دھارواڑ پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے واقعہ کے محض 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

 

ذکیہ مُلا کی نعش حبلی۔دھارواڑ بائی پاس روڈ کے قریب ایک زرعی کھیت سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ گنجن آریہ کی ہدایت پر متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے قتل کے الزام میں 22 سالہ صابر مُلا  پیشہ سے ڈرائیور، کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی کار اور موبائل فون بھی ضبط کر لئے ہیں۔ اس کارروائی میں مقامی افراد اور حبلی پولیس کا تعاون بھی حاصل رہا۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم صابر مقتولہ کا رشتہ دار بتایا گیا ہے اور منگل کی شام ملاقات کے بہانے اسے ساتھ لے گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ ٹول ناکا جنکشن سے ہائی وے کی طرف روانہ ہوئے، جہاں کار میں دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور ملزم نے مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے ذکیہ کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں وہ نعش کو کار میں لے کر گھومتا رہا اور چہارشنبہ کی علی الصبح زرعی کھیت میں پھینک دیا۔

 

ذرائع کے مطابق صابر کی آئندہ ماہ ذکیہ سے منگنی طے تھی اور دونوں خاندان ایک دوسرے کے قریبی تھے۔ قتل کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔ نعش پھینکنے کے بعد ملزم صبح کے وقت دوبارہ جائے واردات پر آیا، جہاں مقامی لوگوں نے اسے دیکھا۔ تفتیش کے دوران ذکیہ، اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے موبائل لوکیشنز کی جانچ کی گئی، جس میں ملزم کی موبائل ٹاور لوکیشن اسی علاقے میں پائی گئی، جس کے بعد پولیس صابر تک پہنچی۔

 

سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، تاہم پولیس نے ابھی تک کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کی۔ قتل کے اصل محرکات جاننے کے لیے ہر زاویے سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ رات کے وقت ذکیہ کے والد کو بھیجا گیا مبینہ پیغام خود ذکیہ نے بھیجا تھا یا ملزم نے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button