جرائم و حادثات

حیدرآباد میں 10 سالہ لڑکی کے قتل معاملہ میں دسویں جماعت کا لڑکا قاتل نکلا

حیدرآباد  شہر کے علاقے کوکٹ پلی سنگیت نگر میں  10 سالہ معصوم لڑکی سہا سرا کو اس کے ہی پڑوس میں رہنے والے دسویں جماعت کے لڑکے  نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ یہ خوفناک واردات ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی جس کا انکشاف پولیس تحقیقات میں ہوا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق سہا سرا چھٹی جماعت کی طالبہ تھی اور اپنے والدین کے ساتھ سنگیت نگر میں رہائش پذیر تھی۔ چار دن قبل  اس کے والدین ڈیوٹی پر  گئے ہوئے تھے۔ اسی دوران پڑوسی لڑکا، جس کی عمر بمشکل 15 تا 16 سال بتائی جارہی ہے، خنجر ہاتھ میں لے کر گھر میں داخل ہوا۔ مقصد صرف نقد رقم کا سرقہ تھا۔ لڑکے نے مکان کی تلاشی لیتے ہوئے تقریباً 80 ہزار روپے نقد رقم چوری کرلی۔

 

لیکن عین اسی وقت ننھی سہا سرا نے اسے واردات کرتے ہوئے دیکھ لیا اور شور مچانے کی کوشش کی۔ پکڑے جانے کے خوف نے کمسن مجرم کو درندہ صفت بنا دیا۔ اس نے خنجر سے یکے بعد دیگرے 18 وار کر کے معصوم لڑکی کی زندگی کا بے رحمانہ خاتمہ کر دیا۔ بچی کے جسم سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

 

قتل کے بعد ملزم گھبرا کر قریبی عمارت میں کچھ دیر تک چھپا رہا اور بعد ازاں فرار ہوگیا۔ اس دوران پولیس کو واردات کی اطلاع ملی اور پورے علاقے کو گھیر لیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بالآخر  لڑکے کو گرفتار کرلیا گیا۔

 

تحقیقات میں یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ ملزم کے جیب سے ایک پرچی برآمد ہوئی، جس پر اس نے واردات کا پلان تفصیل کے ساتھ تحریر کر رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ سرقہ اور قتل کے لئے پہلے سے تیار ہو کر آیا تھا

 

اس لرزہ خیز سانحہ کے بعد کوکٹ پلی اور اطراف کے علاقوں میں خوف و سنسنی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی عوام اور والدین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے کہ کمسن لڑکا بھی کس طرح سنگدل مجرم میں تبدیل ہوسکتا ہے

 

متعلقہ خبریں

Back to top button