جرائم و حادثات

حیدرآباد: ماں بچوں کی اجتماعی خودکشی معاملہ۔ پولیس کو کار اور خودکش نوٹ دستیاب

حیدرآباد: میڑچل ضلع کے چرلاپلی میں ریل کے آگے چھلانگ لگا کر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی خودکشی کے واقعے میں اہم حقائق سامنے آ رہے ہیں۔

 

چنگی چرلہ کی رہنے والی وجیہ (35) نے اپنے دو بچوں، وشال (17) اور چیتنہ (18)، کے ساتھ ہفتہ کی لصبح چرلہ پلی اور گھٹکیسَر ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کر لی۔سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرنے والی وجیہ نے ہاسٹل میں رہنے والے اپنے دونوں بچوں کو واپس بلا کر اس انتہائی قدم کو کیوں کیا

 

اس پر ہر طرف شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسی دوران چرلہ پلی ریلوے اسٹیشن پر وجیہ کی پارک کی گئی کار سے ایک خودکشی نوٹ برآمد ہو جس میں اس نے لکھا”مجھے میری زندگی پسند نہیں ہے۔ جینے کی کوشش کے باوجود مجھ سے نہیں ہو پا رہا۔ بچوں کو چھوڑ کر جانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے میں اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہی ہوں۔

 

مجھے معاف کر دینا، اماں۔”وجیہ کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ وجیہ کے خاندان میں کسی قسم کی مالی پریشانی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وجیہ کے شوہر سریندر ریڈی دبئی میں مقیم ہیں اور پچھلے چار ماہ سے بھارت نہیں آئے۔ تاہم خاندان کے افراد کے مطابق اگر پورا خاندان آپس میں خوشگوار تعلقات رکھتا

 

تھا تو پھر وجیہ نے ایسا خطرناک فیصلہ کیوں کیا یہ بات اب تک معمہ بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button