کرکٹ بیاٹ کیلئے قتل۔ کوکٹ پلی لڑکی کے قتل کی واردات میں انکشاف

حیدرآباد: سائبرآباد کے پولیس کمشنر اویناش موہنتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دسویں جماعت میں پڑھنے والے ایک طالبعلم نے سہسرا کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ صرف کرکٹ بیاٹ چوری کرنے آیا تھا لیکن حالات ایسے بنے کہ اس نے لڑکی کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو سہسرا کے چھوٹے بھائی کا کرکٹ بیٹ بہت پسند آیا تھا جسے حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک منصوبہ بنایا۔ 18 اگست کو جب سہسرا کے والدین گھر پر نہیں تھ، تو وہ چپکے سے اندر داخل ہوا۔ اُس وقت سہسرا ٹی وی دیکھ رہی تھی اور بیاٹ کچن میں رکھا ہوا تھا۔ ملزم آہستہ سے کچن کی طرف گیا تاکہ بیاٹ لے سکے لیکن جیسے ہی اس نے بیاٹ اٹھایا آواز ہوئی۔ سہسرا نے اسے دیکھ لیا اور زور زور سے چیخنے لگی۔
سہسرا نے اس کی شرٹ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی جس پر وہ گھبرا گیا اور اسے بیڈروم میں دھکیل کر چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا۔ پھر وہ ایسے ظاہر کرتا ہوا گھر سے باہر نکلا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور چپکے سے اپنے گھر چلا گیا۔ وہاں اس نے باتھ روم میں جا کر نہانے کا بہانہ کیا اور خون سے لت پت کپڑے واشنگ مشین میں ڈال دیے۔
اسی دن ملزم کی ماں کو اس پر شک ہوا لیکن اس نے لاعلمی ظاہر کی۔ اگلے دو دن تک پوچھنے پر وہ غصے میں آ گیا اور اپنی ماں سے کہا کہ "آپ ہی مجھے شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔ ملزم کی ماں نے یہ بھی بتایا کہ دو ماہ پہلے اس کے پاس ایک موبائل فون دیکھا گیا تھا لیکن جب اس سے پوچھا گیا کہ فون کہاں سے آیا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
مزید انکشاف ہوا کہ وہ لڑکا اسکول باقاعدگی سے نہیں جاتا تھا اور گھر پر بیٹھ کر مسلسل او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر جرائم پر مبنی فلمیں دیکھا کرتا تھا۔