حیوانیت کی انتہا: کالج میں سرِعام تذلیل، طالبہ کی ڈپریشن سے موت – حیدرآباد کے مضافات میں واقعہ
حیدرآباد _ بچوں کو تعلیم و تربیت کا درس دینے والے اساتذہ ہی جب درندگی پر اُتر آئیں تو اس کے نتائج کتنے ہولناک ہو سکتے ہیں، اس کی دردناک مثال شہر حیدرآباد کے ملکاجگِری کے سرکاری جونیئر کالج میں سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ملکاجگِری کے سرکاری جونیئر کالج میں انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ورشینی ایک دن معمولی تاخیر سے کالج پہنچی۔ اسی بات کو بہانہ بنا کر لیکچررس شری لکشمی اور مدھورِما نے اسے تمام طالبات کے سامنے کھڑا کر کے بدترین ذہنی اذیت دی۔
اطلاعات کے مطابق لیکچررس نے نہایت غیر اخلاقی اور توہین آمیز سوالات کرتے ہوئے کہا کہ “کالج دیر سے کیوں آئی ہو؟ کیا تمہیں حیض آیا ہے؟ ڈرامے کر رہی ہو؟ ثبوت دکھاؤ!”۔اساتذہ کے یہ الفاظ طالبہ کے لئے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئے اور وہ شدید ذہنی صدمہ میں مبتلا ہو گئی۔
کالج میں ہونے والی اس ذلت کو برداشت نہ کر پانے کے باعث ورشینی مکمل ڈپریشن میں چلی گئی۔ گھر پہنچنے کے بعد بھی وہی توہین آمیز باتیں اس کے ذہن میں گردش کرتی رہیں، جس سے اس کی ذہنی کیفیت مزید بگڑ گئی۔ اسی دوران وہ گھر میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ گھبراہٹ میں مبتلا والدین فوراً اسے ہاسپٹل لے گئے، تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا، جس سے گھر میں کہرام مچ گیا۔
ادھر ورشینی کی موت کو لیکچررس کی ذہنی ہراسانی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے گھر والوں اور طلبہ تنظیموں نے کالج کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ طالبہ کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے والی شری لکشمی اور مدھورِما کو فوری طور پر گرفتار کر کے ملازمت سے برخاست کیا جائے۔
پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔



