جرائم و حادثات

جج کی بھتیجی مہجبین انصاری کا جہیز کے لئے قتل — ہاسپٹل کی پارکنگ میں سسرال والے نعش چھوڑ کر بھاگتے ہوئے پکڑے گئے

اترپردیش کے بریلی میں شادی کے صرف 9 ماہ بعد نوجوان وکیل مہجبین انصاری کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب مہجبین کی نعش ایک پرائیویٹ ہاسپٹل کی پارکنگ میں کار کے اندر ملی۔

 

ہاسپٹل کے اسٹاف کے مطابق سسرالی افراد نعش چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اسی دوران مقتولہ کے گھر والے پہنچ گئے اور سسرال والوں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

مہجبین کے والدین نے الزام لگایا کہ سسرالی افراد شادی کے بعد سے اضافی جہیز کے طور پر آٹومیٹک کار کا مطالبہ کر رہے تھے اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر بہو کا گلا دبا کر قتل کر دیا گیا۔ مہجبین بریلی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اصغر علی کی بھتیجی تھیں۔

 

ان کی شادی 27 فروری 2025 کو ڈاکٹر طلحہ سے ہوئی تھی جو روحیل کھنڈ میڈیکل کالج میں MBBS کے آخری سال کے طالب علم ہیں۔ مہجبین ایل ایل ایم کی پڑھائی کے ساتھ عدالت میں وکالت بھی کرتی تھیں۔

 

گزشتہ رات تقریباً 2:45 بجے سسرالی افراد مہجبین کو کار میں لے کر میڈینووا ہاسپٹل پہنچے اور اسٹاف کو کار کے باہر بلا کر کہا کہ اسے دیکھ لیں، جب اسٹاف نے اندر لا کر چیک اپ کرنے کا کہا تو سسرالی افراد نے انکار کر دیا۔ ہاسپٹل کے عملہ نے کار کا دروازہ کھول کر دیکھا تو مہجبین مردہ حالت میں تھیں۔ اس کے بعد معاملہ گھر والوں تک پہنچا اور صبح ہوتے ہوتے ماحول کشیدہ ہوگیا۔

 

پولیس نے شوہر اور ساس کو حراست میں لے لیا جبکہ سسر موقع سے فرار ہوگیا۔ مہجبین کے والد ڈاکٹر ہاشم انصاری نے کہا کہ شادی کے بعد سے ہی بیٹی کو اضافی جہیز کے مطالبے پر ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ کئی بار خاندان نے سسرال والوں سے بات کی لیکن حالات تبدیل نہیں ہوئے۔ چچا اور وکیل اچھن انصاری نے بھی کہا کہ شادی میں پوری حیثیت کے مطابق جہیز دیا گیا تھا حتیٰ کہ ایک کار بھی دی گئی، لیکن اس کے باوجود سسرالی افراد آٹومیٹک کار کی ضد پر اڑے رہے۔

 

مہجبین اکثر فون پر روتے ہوئے بتاتی تھی کہ اس کے ساتھ مارپیٹ ہوتی ہے۔ مہجبین کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے اور گلے پر دباؤ کے زخم نمایاں تھے جو اس بات کی علامت ہیں کہ موت معمولی نہیں بلکہ مشتبہ حالات میں ہوئی ہے۔

 

پولیس نے مہجبین کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا اور 8 ملزمین کے خلاف جہیز کے تحت قتل، تشدد اور دیگر دفعات میں مقدمہ درج کر لیا۔ نامزد ملزمین میں شوہر ڈاکٹر طلحہ، دیور ڈاکٹر حمزہ، محمد زید، سسر ڈاکٹر مہدی حسن، ساس آسماء، نند عظمہ، نند چاندنی اور نندوئی فیضان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور تمام ملزمین پر کڑی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button