جرائم و حادثات

کورٹلہ میں افسوسناک واقعہ: قرضوں کے بوجھ اور شوہر کی مبینہ اذیت سے سرکاری ٹیچر کی خودکشی

کورٹلہ میں افسوسناک واقعہ: قرضوں کے بوجھ اور شوہر کی مبینہ اذیت سے سرکاری ٹیچر کی خودکشی

 

قرضوں کے دباؤ اور شوہر کی مبینہ اذیت برداشت نہ کر پانے کے باعث ایک سرکاری خاتون ٹیچر نے پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کورٹلہ میں پیش آیا، جس سے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

 

ایس آئی چیرنجیوی اور مقامی افراد کے مطابق، آدرش نگر کالونی میں رہنے والے ونگا شری دھر کپڑوں کا کاروبار کرتے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ رمیا سدھا (36) ورنگل ضلع کے رائے پَرَتی میں واقع سرکاری سوشل ویلفیئر گروکل اسکول میں اُستاد تھیں۔ سنکرانتی کی تعطیلات کے سبب رمیا سدھا ہفتہ کو کورٹلہ میں اپنے گھر آئی تھیں۔

 

کاروبار ٹھیک نہ چلنے کے باعث شوہر کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ مکان کے لئے لیے گئے قرضوں کے ساتھ ساتھ ذاتی قرضے بھی بڑھتے چلے گئے، جس کے نتیجہ میں خاندان کی مالی ذمہ داریوں کا زیادہ تر بوجھ رمیا سدھا کی تنخواہ پر آ گیا۔

 

بینک قرضوں اور دیگر اداروں سے لیے گئے قرضوں میں رمیا سدھا بطور ضامن شامل تھیں، جس سے اُن پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ قرضوں کی ادائیگی کے معاملے پر میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے تنازعات چل رہے تھے۔

 

پیر کے روز بھی اسی بات پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ شدید ذہنی دباؤ کے عالم میں رمیا سدھا نے اپنے دونوں بیٹوں کو کھیلنے کے لیے باہر بھیجا اور گھر میں پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔

 

متوفیہ کے والد رگھو رام نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ داماد شری دھر نے زبردستی قرضہ کروا کر اُن کی بیٹی کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button