جرائم و حادثات

ولی کے پیٹ میں شیطان — ایم بی اے پاس بیٹے نے باپ کی شفقت کو گولیوں سے چھلنی کر دیا

لکھنؤ _ اتر پردیش کے بلندشہر میں ایک دل دہلا دینے والے واقعہ میں بے روزگاری کے طعنوں اور گھریلو تنازع نے باپ-بیٹے کے رشتے کو خون میں نہلا دیا۔ کوتوالی دیہات علاقے کی بھوڑ پولیس چوکی کے تحت واقع اکبرپور جھوژا گاؤں میں ایم بی اے پاس بیٹے ابو بکر نے اپنے کینسر میں مبتلا ضعیف والد طاہر کو ان ہی کی لائسنس یافتہ بندوق سے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

 

اس واقعہ کے بعد متوفی کے بڑے بیٹے ابو اظہر کی تحریری شکایت پر پولیس نے ملزم بھائی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق منگل کے روز ملزم نے اپنے والد پر لائسنس یافتہ بندوق سے تین گولیاں چلائیں، جن میں سے دو گولیاں گردن اور ٹانگ میں لگیں اور والد کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی کوتوالی دیہات پولیس موقع پر پہنچی، ملزم کو حراست میں لے لیا اور واردات میں استعمال ہونے والی بندوق بھی ضبط کر لی گئی۔ بعد ازاں ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

 

پولیس تفتیش میں سامنے آیا کہ ابو بکر تقریباً سات ماہ قبل سعودی عرب سے گاؤں واپس آیا تھا۔ واپسی کے بعد وہ کسی ملازمت سے وابستہ نہیں تھا، جس بات کو لے کر والد اور بیٹے کے درمیان اکثر کہا سنی ہوتی رہتی تھی۔ والد اسے کام کرنے کے لیے سمجھاتے اور بے روزگاری کا طعنہ دیتے تھے، لیکن یہی بات آہستہ آہستہ شدید تنازع میں بدل گئی۔

 

اہلِ خانہ کے مطابق اپریل کے مہینے میں دونوں بھائیوں کی شادی طے تھی اور گھر میں شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں، مگر اس افسوسناک واقعہ نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔

 

پولیس حراست میں ملزم بیٹے کو شدید ندامت لاحق ہے۔ تھانے کی حوالات میں وہ پوری رات روتا رہا اور کہا کہ غصے میں آ کر اس نے بہت بڑا گناہ کر دیا ہے، جس پر اللہ بھی اسے شاید کبھی معاف نہ کرے۔ اس نے اعتراف کیا کہ جس والد نے کینسر جیسی موذی بیماری کے باوجود کھیتی باڑی اور مزدوری کر کے نہ صرف اسے بلکہ اس کے بڑے بھائی ابو اظہر کو ایم بی اے تک تعلیم دلوائی، اسی والد کو اس نے قتل کر دیا۔

 

روتے ہوئے ابو بکر نے کہا کہ وہ اب معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا اور اسے جینے کی خواہش بھی نہیں رہی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے بھائی بہنوں اور والدہ کے سامنے کیسے کھڑا ہوگا، کیونکہ وہ سب اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔

 

ملزم نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ اس نے تین سال سعودی عرب میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کیا اور وہاں سے کمائے گئے تمام پیسے والد کے حوالے کر دیے، اس نے اپنی کوئی بچت نہیں کی۔ اس کے مطابق والد نے ایک سال قبل بیسا کالونی میں واقع اپنی زمین 47 لاکھ روپے میں فروخت کی تھی، مگر اس رقم میں سے اسے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ پوری رقم بڑے بھائی ابو اظہر، جو ایک موبائل کمپنی میں منیجر ہے، اور چھوٹے بھائی ظاہر کو دے دی گئی۔ اسی بات کے ساتھ ساتھ آئے دن کے جھگڑوں اور طعنوں نے اس کے دل میں یہ شک پیدا کر دیا کہ والد بڑے اور چھوٹے بھائی سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے نظرانداز کر رہے ہیں۔

 

منگل کی صبح بھی والد نے گالی گلوچ کے ساتھ بے روزگاری کے طعنے دینے شروع کیے، جس پر غصے میں آ کر ابو بکر نے والد کی لائسنس یافتہ رائفل اٹھائی اور ان پر گولیاں چلا دیں، جو ان کی موت کا سبب بن گئیں۔

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کی جا رہی ہے اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button