جرائم و حادثات

موبائل گیم کی لت – تین سگی بہنوں نے نویں منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی -بچیاں ٹاسک بیسڈ کوریَن “لو گیم” کی شدید لت میں مبتلا تھیں

لکھنؤ –   اترپردیش کے غازی آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں تین سگی بہنوں نے نویں منزل کی بالکنی سے چھلانگ لگا کر اجتماعی خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے تینوں بچیوں نے اپنے کمرے کو اندر سے بند کیا، اسٹول رکھا اور باری باری بالکنی سے کود گئیں۔ بچیوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال بتائی گئی ہیں۔

 

پولیس اور گھر والوں کے مطابق تینوں بہنیں ٹاسک بیسڈ کوریَن “لو گیم” کی شدید لت میں مبتلا تھیں۔ وہ ہر وقت ایک ساتھ رہتی تھیں، ایک ساتھ نہاتیں اور ٹوائلٹ بھی ساتھ جاتی تھیں۔ گیم کی اس حد تک عادت ہوچکی تھی کہ انہوں نے اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق والد نے بچیوں کو موبائل گیم کھیلنے سے منع کیا اور ڈانٹا، جس پر ناراض ہوکر انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ جس کمرے میں تینوں بہنیں سوتی تھیں وہاں پولیس کو ایک ڈائری ملی، جس کے 18 صفحات پر مبنی سوسائیڈ نوٹ تحریر تھا۔ پولیس کے مطابق نوٹ میں لکھا ہے:

 

“ممی پاپا سوری… ہم گیم نہیں چھوڑ پا رہی ہیں۔ اب آپ کو احساس ہوگا کہ ہم گیم سے کتنا پیار کرتی تھیں، جسے آپ چھڑوانا چاہتے تھے۔”

 

یہ واقعہ بھارت سٹی بی-1 ٹاور کے فلیٹ نمبر 907 میں پیش آیا۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر  آلوک پریہ درشی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں خودکشی کی تصدیق ہوئی ہے۔ تینوں بچیاں موبائل پر گیم کھیلتی تھیں، کن حالات میں یہ قدم اٹھایا گیا، اس کی مزید جانچ جاری ہے۔

 

مہلوک بچیوں کے نام نشیکا (16)، پراچی (14) اور پاکھی (12) ہیں۔ والد چیتن گجر آن لائن شیئر ٹریڈنگ کا کام کرتے ہیں اور دہلی کے کھجوری کے رہنے والے ہیں۔ خاندان میں دو بیویاں، سات سال کا ایک بیٹا اور چار بچیاں تھیں، جبکہ سالی بھی ساتھ رہتی تھیں۔ چیتن نے بتایا کہ پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے پر انہوں نے اس کی بہن سے دوسری شادی کی تھی۔

 

گھر والوں کے مطابق جس فلیٹ میں خاندان رہتا ہے اس میں تین کمرے اور ایک ہال ہے۔ واقعے کے وقت والد دونوں بیویوں کے ساتھ ایک کمرے میں سو رہے تھے، اسی کمرے میں سالی، تین سالہ بیٹی اور سات سالہ بیٹا بھی موجود تھے۔ تینوں بچیاں دوسرے کمرے میں سوئی تھیں، جبکہ تیسرے کمرے میں رادھا کرشن کی تصویر لگی تھی۔ اسی کمرے کی بالکنی سے تینوں نے چھلانگ لگائی۔

 

ایس پی اتُل کمار سنگھ نے بتایا کہ پولیس کو رات 2:18 بجے اطلاع ملی۔ جس مقام سے بچیوں نے چھلانگ لگائی، وہاں سے زمین کی بلندی تقریباً 80 فٹ ہے۔ تینوں بچیاں شدید زخمی حالت میں پائی گئیں، جنہیں ایمبولینس کے ذریعے لونی کے سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

 

والد کا کہنا ہے کہ بچیاں گزشتہ تین برس سے یہ گیم کھیل رہی تھیں اور اکثر کہتی تھیں کہ انہیں کوریا جانا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچیاں کوریَن کلچر سے متاثر اور موبائل کی عادی تھیں۔ گیم کی نوعیت اور اس سے جڑے ٹاسکس کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔

 

پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی موبائل سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور آن لائن گیمز کے ممکنہ خطرات سے باخبر رہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button