ماں بیٹے کا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاب – 9 ہزار اکاؤنٹس کے ذریعہ 240 کروڑ کی ہیرا پھیری

بنگلورو _ 18 جنوری ( اردولیکس ڈیسک) فوری دولت کمانے کی خواہش نے 22 سالہ بی کام ڈراپ آؤٹ نوجوان کو سائبر جرم کی دنیا میں دھکیل دیا، جس نے دبئی میں مقیم ایک بھارتی سرغنہ کے لئے ہزاروں مِیول بینک اکاؤنٹس چلا کر سالانہ 25 لاکھ روپے سے زائد کمائے۔ اس غیر قانونی نیٹ ورک میں اس کی والدہ بھی شریکِ جرم رہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر تقریباً 4,200 مِیول اکاؤنٹس کے آپریشن اور انتظام میں بیٹے کی مدد کی۔
پولیس کے مطابق ملزم محمد اوزیف اور اس کی والدہ شبانہ عبدل باری کو حال ہی میں ہولیماؤ پولیس کی خصوصی ٹیم نے گرفتار کر کے بنگلورو سنٹرل جیل میں عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ماں بیٹے نے سائبر فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو سفید کرنے کے لئے تقریباً 24 کروڑ روپے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعہ منتقل کئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک کالج ڈراپ آؤٹ سے شروع ہونے والا یہ معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں اکاؤنٹس اور بین الاقوامی روابط پر مشتمل ایک بڑے منی-مِیول نیٹ ورک میں بدل گیا۔
پولیس نے دہلی سے 9 نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا ہے، جو مبینہ طور پر اوزیف کی مدد سے مِیول اکاؤنٹس کا انتظام کرتے، ان سے منسلک ڈیبٹ کارڈز کے ذریعہ اے ٹی ایم سے رقم نکالتے اور یہ کارڈز کورئیر کے ذریعہ دبئی بھیجتے تھے۔
تفتیش کاروں کے مطابق 11 ملزمین مجموعی طور پر تقریباً 9,000 مِیول اکاؤنٹس چلا رہے تھے، جن کے ذریعہ 240 کروڑ روپے کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کو منجمد کیا گیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ گینگ ملک بھر میں کم از کم 864 سائبر کرائم مقدمات سے منسلک ہے۔ اس بات کی تصدیق سیمنت کمار سنگھ، کمشنر پولیس بنگلورو سٹی نے کی۔
دبئی میں مقیم سرغنہ کی شناخت پریم تنیجا کے طور پر ہوئی ہے، جو 2013 کے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ممبئی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے اور فی الحال مفرور ہے۔
کارروائی کے دوران پولیس نے 242 ڈیبٹ کارڈز، 58 موبائل فونز، 531 گرام سونے کے زیورات، 4.9 لاکھ روپے نقد، 9 قیمتی گھڑیاں، 33 چیک بکس، 21 پاس بکس کے علاوہ ڈیجیٹل پیمنٹ رنگ اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک کتاب ضبط کی۔
ڈپٹی کمشنر پولیس، الیکٹرانکس سٹی ایم نارائن نے بتایا کہ نومبر میں پولیس کو اطلاع ملی کہ اوزیف اور اس کی والدہ سرکاری ہاسپٹل ، خاص طور پر لیبر وارڈز، اور کالجوں کا رخ کر کے لوگوں کو 2,000 سے 5,000 روپے کمیشن کے عوض بینک اکاؤنٹس کھلوانے پر آمادہ کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ پاس بکس، ڈیبٹ کارڈز اور چیک بکس دہلی میں موجود ساتھیوں کے حوالے کئے جاتے، جبکہ ان افراد کے نام پر کم از کم 2 سم کارڈز بھی خریدے جاتے تھے۔
ڈی سی پی کے مطابق اوزیف خود کو تاجر ظاہر کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ ٹیکس سے بچنے کے لئے دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس کھول رہا ہے۔ معاملے کی تفتیش کے لئے انسپکٹر بی جی کماراسوامی کی قیادت میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اپریل 2021 میں اوزیف کا رابطہ پریم تنیجا سے ہوا اور تب سے وہ اس کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اوزیف، اکثر اپنی والدہ کے ہمراہ، کئی بار دبئی گیا اور کم از کم درجن بھر ملاقاتیں کیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق اوزیف کے والد کا کووڈ-19 وبا کے دوران انتقال ہو گیا تھا۔ آن لائن گیمنگ میں مہارت رکھنے والا اوزیف ابتدا میں ایک گیمنگ ایپ کے خلاف منفی تبصرے پوسٹ کر کے تقریباً 20 ہزار روپے کماتا تھا۔ بعد میں اسی نیٹ ورک نے اسے “بڑی کمائی” کے لئے تنیجا سے جوڑ دیا۔
پولیس کے مطابق اوزیف نے عیش و عشرت پر خطیر رقم خرچ کی، ایک لاکھ روپے تک کے جوتے اور تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کی دو گھڑیاں خریدیں۔ وہ جے پی نگر کے ایچ ایم ورلڈ اپارٹمنٹ میں والدہ کے ساتھ رہتا تھا، جہاں ماہانہ کرایہ 60 ہزار روپے تھا۔ پولیس نے اس کے قبضہ سے 9 گھڑیاں برآمد کیں۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ مِیول اکاؤنٹس کے آپریشن سے اوزیف کی سالانہ آمدنی کم از کم 25 لاکھ روپے رہی، اور ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔



