تلنگانہ کے جگتیال ضلع میں بیل کے گوشت کی فروخت پر مسلم قصاب اور بیٹے پر حملہ، ایک کا ہاتھ فریکچر -4 افراد کے خلاف مقدمہ درج

تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے ابراہیم پٹنم منڈل کے موضع ورشاکنڈہ میں آج صبح تقریباً 9 بجے اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگیی جب بیل کے گوشت کی فروخت کے دوران محمد اقبال قریشی (60 سال)، ساکن مورتھاد ضلع نظام آباد اور ان کے بیٹے محمد انس قریشی (16 سال) پر حملہ کیا گیا، جس میں انس قریشی کا ہاتھ فریکچر ہو گیا۔ ابراہیم پٹنم پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے 4افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا
پولیس ذرائع کے مطابق بیندلہ سری کانت عرف چنتو، گنگانولا منیش، دودھی ہرشا، پاتھاکالا ترون اور دیگر نے، جو ہنومان مالا پہنے ہوئے تھے، باپ بیٹے کو روک کر لوہے کے کھمبے سے باندھا، مار پیٹ کی اور دھمکیاں دیں۔
واقعہ کے بعد محمد اقبال قریشی نے صبح 10 بجے میٹ پلی کے سرکاری کمیونٹی ہیلت سنٹر میں رپورٹ درج کروائی، جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس
اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر میٹ پلی اور کورٹلہ مجلس کے مقامی صدور عقیل اور رفیع الدین کی قیادت میں ایک وفد نے میٹ پلی ٹاؤن پولیس اسٹیشن پہنچ کر خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ہاسلٹل پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی
اسی دوران مجلس کے جگتیال ضلع صدر لیاقت علی محسن نے ایس پی جگتیال اشوک کمار اور ڈی ایس پی میٹ پلی سے رابطہ کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، جس پر ایس پی اشوک کمار نے خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔





