اترپردیش کے بدایوں میں مسلم افراد سے مارپیٹ کا معاملہ – ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم گرفتار
اتر پردیش کے ضلع بدایوں کی تحصیل اسلام نگر کے روداین گاؤں میں مارپیٹ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین مسلم افراد ایک مقامی نوجوان سے راستہ پوچھتے ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر نوجوان ان سے نام پوچھ کر ان پر حملہ کر دیتا ہے۔
متاثرین کے مطابق سہسوان کوتوالی علاقہ کے محلہ محی الدین پور کے رہائشی عبدالسلام اپنے ساتھیوں عارف اور جاوید کے ساتھ اسکوٹی پر روداین گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان کے پیش نظر وہ زکوٰۃ کی غرض سے گئے تھے اور وہاں ایک نوجوان سے مسلم محلہ اور ہائی وے کا راستہ پوچھا۔ الزام ہے کہ اس پر نوجوان مشتعل ہو گیا اور گالی گلوج کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔ بزرگ جاوید کی ٹوپی اتروائی گئی اور تینوں کو باری باری تھپڑ مارے گئے۔
شکایت کے مطابق ملزم نے تقریباً دو سو میٹر تک انہیں دوڑا دوڑا کر پیٹا، بیچ بیچ میں سوالات کرتا اور پھر تشدد کرتا رہا۔ واقعے کے دوران ایک شخص ویڈیو بناتا رہا جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ طول پکڑ گیا۔
عبدالسلام کی تحریر پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ویڈیو کی بنیاد پر روداین کے رہائشی اکشے عرف چھوٹو کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ سرکل آفیسر بلسي سنیل کمار کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں، مزید حقائق سامنے آنے پر اضافی قانونی قدم اٹھائے جائیں گے۔
ادھر سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اتر پردیش کانگریس نے ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس نے کہا کہ یہ واقعہ سماج میں بڑھتی نفرت کی عکاسی کرتا ہے اور الزام لگایا کہ بغیر کسی اشتعال کے تین مسلم راہگیروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی نے اسے اقلیتوں کے خلاف بڑھتے حملوں کی مثال قرار دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔



