جرائم و حادثات

حیدرآباد میں فائرنگ کرکے رقم لوٹ لینے والے دو ملزم گرفتار۔ نوجوان کا اترپردیش سے تعلق

حیدرآباد: ٹاسک فورس سکندرآباد زون اور خیرت آباد زون کی ٹیموں نے سلطان بازار پولیس کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کی واردات میں ملوث دو ملزمین کو گرفتار کرلیا۔

 

ملزمین نے ایس بی آئی کے اے ٹی ایم، کوٹھی برانچ کے قریب ایک شہری کو یرغمال بنا کر اس پر فائرنگ کی اور چھ لاکھ روپے نقد لوٹ لیے تھے۔پولیس کے مطابق 24 فروری 2026 کو خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ گرفتار ملزمین کی شناخت فرخان احمد (36) ساکن سہارنپور، اتر پردیش اور

 

محمد طیب تیاگی (30) کیب ڈرائیور، ساکن شاہین نگر، حیدرآباد کے طور پر ہوئی ہے۔ طیب کا تعلق بھی ضلع مظفر نگر، اتر پردیش سے بتایا گیا ہے۔کارروائی کے دوران پولیس نے ایک دیسی ساختہ پستول 35 زندہ کارتوس، دو میگزین، 2 لاکھ 38 ہزار روپے نقد رقم اور دو موبائل فون برآمد کر لیے۔

 

پولیس کے مطابق مفرور ملزمین میں فہیم احمد، نوشاد، عابد، دانش تیاگی اور محمد مطلوب شامل ہیں جن کا تعلق ریاست اتر پردیش سے ہے جن کی تلاش جاری ہے۔تحقیقات کے مطابق محمد طیب فروری 2024 میں روزگار کی تلاش میں حیدرآباد آیا اور اوبر و اولا کے ذریعے کیب ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا تھا۔

 

دورانِ ڈیوٹی اس نے دیکھا کہ بعض افراد عابڈز، کوٹھی اور نامپلی کے علاقوں میں اے ٹی ایم مشینوں میں بھاری رقوم جمع کرواتے ہیں۔ مالی پریشانیوں کے باعث اس نے ڈکیتی کا منصوبہ بنایا اور اپنے رشتہ داروں کو اس میں شامل کیا۔

 

منصوبے کے تحت چند ملزمین اسلحہ لے کر حیدرآباد پہنچے۔ علی الصبح نامپلی اور کوٹھی کے علاقوں میں نگرانی کے بعد جیسے ہی متاثرہ نوجوان جیسے ہی اے ٹی ایم سنٹر میں داخل ہوا، ملزمین نے اسے اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا۔ مزاحمت پر ایک فائر زمین پر اور دوسرا اس کے پاؤں پر کیا گیا۔ اس کے بعد حملہ اور نقدی سے بھرا بیگ اور موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگئے۔

 

بعد ازاں ملزمین شاہین نگر، چندرائن گٹہ پہنچے جہاں لوٹی گئی رقم تقسیم کی گئی اور پھر وہ مختلف مقامات کی طرف روانہ ہوگئے۔واقعہ کی سنگینی کے پیش نظر پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تفتیش شروع کی۔ 24 فروری کو شاہین نگر، چندرائن گٹہ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

 

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمین کے خلاف دیگر مقدمات بھی درج ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button