شوہر کو پھنسانے کے لئے بیوی اور عاشق کی سازش، گاڑی میں چھپایا گیا 12 کلو گائے کا گوشت بے نقاب

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک خاتون کی جانب سے اپنے شوہر کو دو مرتبہ پھنسانے کی مبینہ سازش سامنے آئی ہے۔ یہ معاملہ پہلی بار 14 جنوری کو اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کاکوری علاقے میں پولیس نے بجرنگ دل کی اطلاع پر درگاجنج کے قریب ایک آن لائن پورٹر گاڑی کو روکا۔ ابتدا میں یہ کارروائی مبینہ گاؤکشی کے ایک عام کیس کی طرح نظر آئی، تاہم گہری جانچ کے بعد معاملہ سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا۔
پولیس نے گاڑی کی تلاشی کے دوران 12 کلو گرام مبینہ گائے کا گوشت برآمد کیا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ ڈلیوری امین آباد کے کاغذ فیکٹری مالک واصف کے نام پر بک کی گئی تھی، تاہم واصف نے کسی بھی قسم کی بکنگ سے انکار کیا۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈلیوری کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے والا او ٹی پی واصف کے موبائل نمبر پر آیا تھا، جس سے بظاہر وہ اس کھیپ سے جڑا دکھائی دیا۔
تاہم معاملہ اس وقت پلٹا کھا گیا جب پولیس نے واصف کے گھر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ فوٹیج میں واضح ہوا کہ جس وقت او ٹی پی جنریٹ ہوا، واصف باتھ روم میں تھا جبکہ اس کا موبائل فون باہر رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران اس کی بیوی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا تو معلوم ہوا کہ گوشت جان بوجھ کر واصف کو پھنسانے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزید تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس مبینہ سازش میں واصف کی بیوی اور اس کا عاشق امان شامل تھا، جو مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال کا رہنے والا ہے۔ کاکوری تھانے کے انسپکٹر ستیش چندر راٹھوڑ کے مطابق امان نے واصف کی شناختی دستاویزات کا غلط استعمال کرتے ہوئے امین آباد سے کاکوری تک آن لائن پورٹر بک کیا۔ گوشت بھوپال سے ایک گتے کے ڈبے میں چھپا کر لایا گیا اور چپکے سے گاڑی میں رکھ دیا گیا۔ پولیس کارروائی یقینی بنانے کے لیے امان نے مبینہ طور پر ’’راہول‘‘ کے فرضی نام سے بجرنگ دل کو اطلاع دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے دسمبر کے آخر میں ملاقات کی، ڈلیوری کی ہم آہنگی کے لیے ایک نیا سم کارڈ خریدا اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس سازش کو انجام دیا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں بھی واصف کی بیوی اور امان نے اسی طرح کی سازش رچی تھی۔ اس وقت تقریباً 20 کلو گرام مبینہ گوشت واصف کی سیاہ مہندرا تھار میں رکھا گیا تھا، جو حضرت گنج کے ایک پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی۔ اس کیس میں واصف کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ کچھ عرصہ جیل میں بھی رہا، تاہم جلد ہی ضمانت پر رہا ہو گیا تھا۔
انسپکٹر کے مطابق، چونکہ پہلی بار واصف جلد جیل سے باہر آ گیا تھا، اس لیے بیوی چاہتی تھی کہ اسے زیادہ عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے، جس کے بعد دوسری اور زیادہ منظم سازش رچی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ اس پورے معاملے کا مقصد واصف پر دباؤ ڈال کر طلاق حاصل کرنا تھا۔
فی الحال پولیس نے امان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واصف کی بیوی کی گرفتاری عمل میں آنا باقی ہے۔ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’اعتماد کے مسائل، خفیہ تعلقات اور جھوٹے مقدمات—اسی لیے بہت سے لوگ شادی میں جلدی نہیں کرتے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا کہ ’’میں نے پورا ویڈیو دیکھا تھا، وہ شخص واقعی صدمے میں تھا۔ خوشی ہے کہ انصاف ہوا۔‘‘ جبکہ ایک اور تبصرہ میں کہا گیا کہ ’’یہ معاملہ ایک ساتھ افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی۔‘‘



