قاتلانہ حملہ میں زخمی جواں سال حافظ قران دوران علاج جاں بحق۔ حیدرآباد کے پرانے شہر میں افسوسناک واقعہ

حیدرآباد ۔ شہر کے علاقہ میلاردیو پلی میں پانچ روز قبل لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ میں زخمی 25 سالہ نوجوان حافظ قرآن دوران علاج جاں بحق ہوگئے۔
متوفی کی شناخت حافظ سید مزمل ہاشمی عمر (25) سال کے طور پر کی گئی ہے جو شاستری پورم کے رہنے والے تھے اور میلاردیوی پلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں مقیم بتائے گئے ہیں پولیس کے مطابق 17 فروری کو محمد غوث نے محمد عارف کو ای میل اکاؤنٹ کے استعمال سے متعلق ایک معاملے پر بات چیت کے لیے اپنے گھر بلایا تھا۔عارف اپنے دوست فردین عاصم کے ہمراہ غوث کے گھر پہنچا۔
بات چیت کے دوران مبینہ طور پر غوث اور اس کے بیٹے نے عارف اور فردین کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ جان بچا کر وہاں سے فرار ہو گئے۔بعد ازاں فردین نے اپنے بھائی حافظ مزمل کو اطلاع دی کہ چند افراد نے ان پر حملہ کیا ہے۔ یہ سن کر مزمل اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ غوث کے گھر پہنچے۔
میلاردیوی پلی کے انسپکٹر بی ستیہ نارائنا کے مطابق وہاں تقریباً سات افراد جن میں چند مقامی افراد بھی شامل تھے انہوں نے حافظ مزمل اور ان کے ساتھیوں پر لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے حافظ مزمل اور دیگر افراد کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
زخمیوں میں حافظ مزمل، فردین اور عبدل ریان شامل تھے جنہیں فوری طور پر علاج کیلئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔اتوار کے روز حافظ مزمل جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے ان کی موت ہوگئی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر بی این ایس ایکٹ کے تحت اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم حافظ مزمل کی موت کے بعد مقدمے کی دفعات تبدیل کر کے اسے قتل کے مقدمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔



