آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے اور شاید دوبارہ واپس نہ آئے – ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک اور دھمکی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی سخت اور غیر معمولی بیان دیتے ہوئے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ "آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے اور شاید دوبارہ واپس نہ آئے”، تاہم انہوں نے اس پیش رفت کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے، لیکن حالات اسی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ عالمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جہاں "زیادہ ذہین اور کم انتہا پسند سوچ رکھنے والے عناصر” ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں کوئی غیر معمولی اور انقلابی پیش رفت بھی سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس کے اثرات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے اس صورتحال کو دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "47 برسوں پر محیط بلیک میلنگ اور بدعنوانی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے”۔
اپنے بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے ایران کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "خدا ایران کے عظیم عوام کی حفاظت کرے”۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم اس بیان کی نوعیت اور اس کے ممکنہ مضمرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔



