انٹر نیشنل

وار روم میں جاتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای – ویڈیو نے دنیا کو چونکا دیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، تاہم اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل بیانات اور دھمکیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے وار کمانڈ سینٹر کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، حالانکہ ان کی تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔

 

گزشتہ دنوں ان کی صحت اور موجودگی سے متعلق کئی افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں، جن میں شدید زخمی ہونے، ایک ٹانگ ضائع ہونے اور علاج کے لیے روس جانے جیسی باتیں شامل ہیں، تاہم ایران نے ان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کنٹرول سنبھال لیا ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای عملی طور پر قیادت نہیں کر رہے۔

 

وائرل ویڈیو میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جب وہ کمانڈ سینٹر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکرین پر اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر پلانٹ کے مقام اور کوآرڈینیٹس دکھائے جاتے ہیں، جو مبینہ طور پر ایک خاموش دھمکی کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ڈیمونا کا یہ مرکز، جسے شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر بھی کہا جاتا ہے، اسرائیل کے جنوبی صحرائے نیگیو میں واقع ہے۔

 

ویڈیو کے اختتام پر “ابھی مزید خبریں آنا باقی ہیں” کا پیغام بھی دیا گیا ہے، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس سے قبل مارچ میں بھی ڈیمونا نیوکلیئر سائٹ کے قریب میزائل حملے کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حساس تنصیبات کے اطراف زیادہ سے زیادہ فوجی احتیاط برتنے کی اپیل کی تھی۔

 

ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو حقیقت کے بجائے پروپیگنڈا یا نفسیاتی دباؤ کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، جس کا مقصد طاقت کا اظہا.ر کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button