کرپشن کیسوں میں پھنسا نیتن یاہو — جیل سے بچنے کے لئے صدر سے "معافی” کی فریاد

بدعنوانی کے الزامات کا سامنا — اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر سے معافی کی باضابطہ درخواست کر دی
بدعنوانی اور لالچ کی سنگین دفعات کا سامنا کر رہے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر آئزک ہرزوگ سے باضابطہ طور پر معافی (Pardon) کی درخواست کردی ہے۔ وزیراعظم آفس نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی اپیل صدر کے دفتر کے قانونی شعبہ کو جمع کروا دی ہے، جبکہ صدر کے دفتر نے اس اقدام کو "غیر معمولی اور پیچیدگیوں سے بھرپور درخواست” قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں فراڈ، اختیارات کا ناجائز استعمال، اعتماد شکنی اور رشوت وصول کرنے جیسے الزامات عائد ہیں، اور وہ اسرائیل کی تاریخ میں وہ واحد وزیر اعظم ہیں جو کرپشن مقدمات میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے امیر سیاسی حامیوں کو فائدہ پہنچانے کے عوض انہیں سہولتیں فراہم کیں — تاہم ابھی تک کسی بھی مقدمہ میں انہیں مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ نیتن یاہو شروع سے ہی ان الزامات کی تردید کرتے چلے آئے ہیں۔
معافی کی اس درخواست کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حکومت سے نیتن یاہو کے لئے نرم رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔ اپنی درخواست میں نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا کہ میرے خلاف جاری عدالتی کارروائی نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے۔
اگر مجھے معافی دی گئی تو قومی اتحاد کی بحالی میں مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ ہفتے میں تین مرتبہ عدالت میں حاضری کی شرط ملک کے انتظامی امور چلانے میں رکاوٹ بن رہی ہے
آئندہ مرحلے میں نیتن یاہو کی درخواست پہلے وزارت قانون سے رائے کے لئے بھیجی جائے گی، اس کے بعد معاملہ صدر دفتر کے قانونی مشیروں کے پاس منتقل ہوگا اور پھر حتمی غور کے لئے صدر آئزک ہرزوگ کے سامنے پیش ہوگا۔



