لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا گولی مار کر قتل

نئی دہلی: لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ لیبیائی میڈیا کے مطابق ان کی موت کی تصدیق منگل (3 جنوری) کو کی گئی۔
سیف الاسلام کی عمر تقریباً 53 سال تھی۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ یہ واقعہ لیبیا کے زنتان شہر میں پیش آیا جہاں ان کے گھر 4 مسلح افراد نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں کو ایک کمانڈو یونٹ بتایا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا؟اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سیف الاسلام کو ایک وقت اپنے والد کا جانشین مانا جاتا تھا۔
وہ لیبیا کی سیاست میں ایک اہم چہرہ تھے۔ ان کے والد معمر قذافی نے 1969 سے لے کر 2011 تک لیبیا پر حکومت کی تھی۔ 2011 میں بغاوت کے بعد معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ 1972 میں پیدا ہوئے سیف الاسلام نے 2000 کے بعد لیبیا اور مغربی ممالک کے درمیان رشتے بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہی کوششوں کے سبب لیبیا نے اپنا جوہری پروگرام چھوڑ دیا تھا
جس کے بعد ملک پر عائد کئی بین الاقوامی پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔ اس سے سیف الاسلام کی سیاسی طاقت اور پہچان میں اضافہ ہوا تھا، حالانکہ وہ کسی سرکاری عہدہ پر نہیں تھے۔واضح رہے کہ 2011 میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد سیف الاسلام پر حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ انہیں زنتان کی ایک میلیشیا نے تقریباً 6 سال تک جیل میں رکھا تھا۔
2015 میں لیبیا کی ایک عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں موت کی سزا بھی سنائی تھی۔قابل ذکر ہے کہ سیف الاسلام نے 2021 میں لیبیا کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن ملک کی غیر مستحکم صورتحال کے سبب انتخاب ملتوی کر دیا گیا۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ وہ اقتدار کو وراثت میں لینے کے حق میں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کوئی زمین نہیں ہے جسے وراثت میں لیا جائے۔ سیف الاسلام کے قتل سے لیبیا کی سیاست میں ایک بار پھر عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔



