انٹر نیشنل

سعودی عرب – غیرملکی “جنرل مینجر” کے عہدے پر فائز کئے جاسکتے ہیں، قوی پورٹل

ریاض ۔ کے این واصف 

سعودی عرب میں کمپنیون کے اعلیٰ عہدوں پر غیر ملکی باشندون کو تعینات کئے جانے پر ادارے پس و پیش کرتے تھے۔ لیکن اب حکومت نے اس کی پابندی کو ختم کرنے کے سلسلہ میں ایک وضاحت جاری کی ہے۔

 

وزارتِ افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کے ڈیجیٹل پورٹل “قوی” پروضاحت کی گئی ہے کہ “جنرل مینجر” کا عہدہ صرف سعودی شہریوں کے لیے ہی مخصوص نہیں، غیرملکی بھی اس پر فائز کئے جاسکتے ہیں۔اخبار 24 کے مطابق “قوی” پورٹل پروزارتِ محنت کی جانب سے کی گئی وضاحت میں مزید کہا گیا ہے وہ غیرملکی جو کسی فرم یا ادارے میں جنرل مینجر کے عہدے پر کام کررہے ہیں ان کےلیے ضروری ہے کہ اپنے ورک ایگریمنٹ میں بھی اسی عہدے کا اندراج کرائیں جو اس کمپنی یا ادارے کی کمرشل رجسٹریشن سے مطابقت رکھتا ہو۔

 

تجارتی ادارے کے غیرملکی جنرل مینجر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اسی ادارے سے منسلک ہو جس کی کمرشل رجسٹریشن وزارتِ افرادی قوت میں رجسٹر ہے اور ان کا عہدہ بھی “سی آر” میں درج ہو۔قوی پورٹل پر مزید کہا گیا ہے کہ پیشوں کے حوالے سے طریقہ کار کا مقصد تجارتی اور ادارہ جاتی ریکارڈ کو درست رکھنا ہے تاکہ ورک فورس اور کام کے معیار کو یقینی بنایا جائے۔

 

دریں اثنا وزارتِ افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی نے نجی شعبے کے مختلف پیشوں میں سعودائزیشن کا تناسب 60 فیصد تک کرنے کی منظوری جاری کی تھی جس کے لیے 19 جنوری 2026 سے 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔جن پیشوں پرسعودائزیشن کا تناسب 60 فیصد تک کیا گیا تھا ان میں مارکیٹنگ اور سیلز کے شعبے شامل تھے جبکہ پبلک ریلیشن مینجرکا عہدہ بھی ان میں شامل ہے اس کے علاوہ

 

سیلز مینجر، سیلز ریپریزنٹیٹواور پرچیزنگ مینجرز کے عہدے بھی سعودائزیشن کی کیٹگری میں درج کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button