متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈٰیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے پر 25 افراد کی گرفتاری کا حکم – میزائل حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے کا بھی الزام
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے تاکہ ان کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق ان افراد پر سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر گمراہ کن مواد پھیلانے اور قومی سلامتی کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ملزمان نے ایسا مواد شائع اور شیئر کیا جس سے ملک کے دفاعی اقدامات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا اور بعض پوسٹس میں متحدہ عرب امارات کے خلاف فوجی جارحیت جیسے اقدامات کی تعریف یا حمایت کا تاثر بھی دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ایسے ویڈیو کلپس بھی نشر اور گردش میں لائے جن میں ریاست کی فضائی حدود میں میزائل حملوں کی پرواز، انہیں روکنے کے مناظر یا ان کے اثرات کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان واقعات کو دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے افراد کی ویڈیوز بھی بنائیں اور ان کے ساتھ ایسے تبصرے اور صوتی اثرات شامل کئے جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ ملک پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس طرح کے مواد سے عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی ویڈیوز دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو بے نقاب کرنے کا خطرہ بھی پیدا کرتی ہیں اور دشمن عناصر یا معاندانہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔
اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کے قوانین کے مطابق ایسی معلومات یا مواد کی اشاعت جو عوام کو گمراہ کرے یا ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے، قابلِ تعزیر جرم ہے اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔



