ایران تنہا یا طاقتور؟ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کس رخ پر جائے گی
از قلم : نسیم سلطانہ
ویمنس یونیورسٹی
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: کیا ایران واقعی تنہا ہے اور کیا جنگ ناگزیر ہے؟
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ایران واقعی تنہا ہے؟ کیا بڑی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟ اور اگر تنازع مکمل جنگ میں بدل گیا تو نتیجہ کیا ہوگا؟
یہ معاملہ جذبات سے نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیا ایران اکیلا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایران کے پاس نیٹو (NATO) جیسا کوئی باضابطہ فوجی اتحاد موجود نہیں۔ نہ کوئی اجتماعی دفاعی معاہدہ، نہ آرٹیکل 5 جیسی ضمانت۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایران براہِ راست فوجی اتحاد کے معاملے میں نسبتاً تنہا دکھائی دیتا ہے۔
تاہم مکمل تنہائی کی تصویر بھی درست نہیں۔
روس اور چین ایران کے اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ روس دفاعی تعاون اور اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ چین ایران کا بڑا معاشی پارٹنر ہے اور امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ لیکن دونوں ممالک براہِ راست امریکہ کے خلاف جنگ میں کودنے سے گریز کریں گے — جب تک ان کے اپنے بنیادی مفادات کو شدید خطرہ نہ لاحق ہو۔
یعنی ایران کو سفارتی اور معاشی سطح پر کچھ حمایت حاصل ہے، مگر کھلی فوجی شمولیت کی ضمانت نہیں۔
اگر جنگ پھیلتی ہے تو کون شامل ہو سکتا ہے؟
امریکہ اس وقت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پہلے ہی خطے میں موجود ہے۔ اگر ایرانی حملوں میں امریکی فوجی اڈے یا شہری بڑی تعداد میں متاثر ہوں تو امریکہ مکمل طاقت کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی صورت میں، اگر بڑے پیمانے پر شہری علاقوں پر حملے ہوں تو وہ اپنی پوری فوجی صلاحیت استعمال کر سکتا ہے۔
روس اور چین زیادہ امکان ہے کہ سفارتی دباؤ، انٹیلی جنس تعاون یا محدود دفاعی مدد تک محدود رہیں گے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً اگر تیل تنصیبات یا آبنائے ہرمز متاثر ہو، تو امریکہ کے ساتھ کھل کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
اگر ایران واقعی تنہا ہو جائے تو اس کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟
ایران روایتی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے برابر نہیں۔ امریکی دفاعی بجٹ، فضائی برتری اور عالمی بحری طاقت کا مقابلہ روایتی انداز میں کرنا ممکن نہیں۔
لہٰذا ایران کی حکمتِ عملی بقا پر مبنی ہوگی، براہِ راست تصادم پر نہیں۔
اس کی اصل طاقت درج ذیل عناصر میں ہے:
بیلسٹک اور کروز میزائل
طویل فاصلے کے ڈرون
علاقائی غیر ریاستی نیٹ ورک
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت
سائبر صلاحیتیں
ایران ممکنہ طور پر براہِ راست زمینی جنگ سے گریز کرے گا اور محدود مگر مؤثر حملوں کے ذریعے دباؤ ڈالے گا۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنا اس کا سب سے خطرناک اور آخری کارڈ ہو سکتا ہے، مگر یہ اقدام عالمی مداخلت کو یقینی بنا سکتا ہے۔
کیا ایران امریکہ اور اسرائیل کو “تباہ” کر سکتا ہے؟
مختصر جواب: نہیں۔
ایران شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر مکمل تباہی ممکن نہیں۔ امریکہ ایک عالمی سپر پاور ہے جس کی فوجی برتری واضح ہے۔ اسرائیل کے پاس جدید دفاعی نظام، مضبوط فضائی طاقت اور مبینہ جوہری صلاحیت موجود ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھی مکمل محفوظ نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ امریکہ کے لیے معاشی اور سیاسی طور پر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ اسرائیل کو شہری دباؤ اور مسلسل سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر مکمل جنگ ہو جائے تو سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا؟
ایران کو شدید فوجی اور انفراسٹرکچر نقصان
اسرائیل کو شہری و معاشی دباؤ
امریکہ کو معاشی اور سیاسی اثرات
اور سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں کی گراوٹ، خوراک اور توانائی بحران — یہ سب دنیا بھر کو متاثر کریں گے۔
جدید جنگ میں کوئی مکمل فاتح نہیں ہوتا۔ نقصان کا دائرہ صرف مختلف ہوتا ہے۔
کیا تیسری عالمی جنگ قریب ہے؟
فی الحال مکمل عالمی جنگ کا امکان کم ہے۔
اس کی تین بڑی وجوہات ہیں:
جوہری توازن — باہمی تباہی کا خوف
عالمی معیشت کا باہمی انحصار
پس پردہ سفارتکاری
تاہم خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں۔ اگر کسی بڑے شہر پر تباہ کن حملہ ہو جائے، کوئی بڑی غلط فہمی پیدا ہو جائے، یا آبنائے ہرمز مکمل بند ہو جائے تو کشیدگی عالمی سطح اختیار کر سکتی ہے۔
لیکن تاریخی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ بڑی طاقتیں آخری لمحے پر بریک لگا دیتی ہیں۔
ایران مکمل طور پر تنہا نہیں، مگر اس کے پاس مضبوط عالمی فوجی بلاک بھی نہیں۔
امریکہ اور اسرائیل عسکری لحاظ سے برتر ہیں، مگر مکمل جنگ ان کے لیے بھی مہنگی ہوگی۔
روس اور چین مفادات کی سیاست کریں گے، جذبات کی نہیں۔
سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ جدید عالمی نظام میں مکمل جنگ سب کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی لیے زیادہ امکان محدود کشیدگی، پراکسی دباؤ اور سفارتی جوڑ توڑ کا ہے — نہ کہ کھلی عالمی تباہی کا۔
طاقت کا اصل امتحان دشمن کو مٹانے میں نہیں، بلکہ تباہی کو روکنے میں ہے۔
اقوام متحدہ کا موقف:
اقوامِ متحدہ نے ایران پر ہو نے والے حملوں اور بڑھتے ہوئے جنگی ‘تشدد’ اور ‘غیر قانونی طاقت کے استعمال’ کے طور پر مذمت کی ہے، اور فوری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد جنگ روکنا اور عالمی امن قائم کرنا ہے۔لیکن جب بڑی طاقتیں خود تنازع کا حصہ ہوں تو اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اکثر علامتی رہ جاتی ہیں۔
یہی وہ کمزوری ہے جس نے عالمی نظام کو اخلاقی بحران میں مبتلا کیا ہے۔



