دہلی کے تہاڑ جیل کے دروازے پر آنسو، مسکراہٹیں اور آزادی – گلفشاں فاطمہ کی رہائی نے جذباتی مناظر رقم کر دئے
دہلی 2020 فسادات سازش کیس کی ملزمہ گلفشاں فاطمہ کو چہارشنبہ کی رات رہا کر دیا گیا۔ یہ رہائی اس وقت عمل میں آئی جب دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد باضابطہ رہائی کے احکامات جاری کئے۔ عدالت نے اس بات کی تصدیق کی کہ گلفشاں فاطمہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ تمام ضمانتی شرائط پوری کر دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلفشاں فاطمہ جیل سے باہر نکلتے وقت ایک بیگ تھامے ہوئے ہیں، جہاں ان کے گھر والے اور حامی کئی گھنٹوں سے ان کے انتظار میں موجود تھے۔ ویڈیوز میں ان کی جذباتی ملاقات کے مناظر قید ہیں، جن میں گھر والوں نے انہیں ہار پہنائے، پھول نچھاور کیے، گلے لگایا اور مٹھائیاں پیش کیں۔ یہ ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر وائرل ہو گئیں۔
گلفشاں فاطمہ کی رہائی اس وقت ممکن ہوئی جب ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ شرائط پر مکمل عمل درآمد کی توثیق کر لی۔ اس سے قبل دن میں عدالت نے ان چار ملزمین کے لئے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے
جنہیں سپریم کورٹ نے ضمانت دی تھی، اور جنہوں نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو مقامی ضامن جمع کرائے تھے۔ دہلی پولیس نے ضمانتوں اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ تمام ضروری تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔
پانچواں ملزم، جسے پیر کے روز سپریم کورٹ نے ضمانت دی تھی، ٹرائل کورٹ میں ضمانتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے پیش نہ ہو سکا، جس کے باعث اس کی رہائی عمل میں نہیں آئی۔ دیگر تین ملزمین کی رہائی بھی تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔
پیر کے روز سپریم کورٹ نے فروری 2020 کے فسادات سے جڑے بڑے سازشی کیس میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت معاملہ پائے جانے پر ضمانت دینے سے انکار کر دیا، تاہم دیگر پانچ ملزمان کو مبینہ سازش میں کردار کی درجہ بندی کی بنیاد پر ضمانت منظور کی۔




