مرکزی وزیر نرملا سیتارامن کے شوہر پرکالا پربھاکر بھی ایس آئی آر مخالف ملک گیر احتجاج میں شامل!

ایس آئی آر کے خلاف ملک گیر احتجاج میں پرکالا پربھاکر، پرکاش راج اور ابھجیت دیپکے کی شرکت
حیدرآباد: انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف 23 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں معروف ماہر معاشیات پرکالا پربھاکر، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے اور اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج سمیت کئی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ اتحاد کے زیر اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں ایس آئی آر کو منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
پرکالا پربھاکر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ہر گلی میں جنتر منتر‘‘ کے عنوان سے 23 اکتوبر، جمعہ کو جمہوریت کی بحالی کے لئے عوامی مارچ کیا جائے گا۔ احتجاج میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن، کسان لیڈر راکیش ٹکیت، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا اور مصنف تشار گاندھی کی بھی شرکت متوقع ہے۔ اتحاد نے اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا بلاک سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے، تاہم ان کی شرکت کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
کون ہیں پرکالا پربھاکر؟
پرکالا پربھاکر حکومت کی معاشی پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ نرملا سیتارامن مرکزی وزیر فینانس ہیں اور طویل عرصے سے بی جے پی سے وابستہ ہیں، تاہم پرکالا پربھاکر نے حکمراں جماعت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ وہ 8 اکتوبر کو بنگلورو کے فریڈم پارک میں سی جے پی کے احتجاج میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں یوٹیوبر دھروو راٹھی اور پرکاش راج سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی تھی۔
اپنی کتاب ’دی کروکڈ ٹمبر آف نیو انڈیا‘ میں پربھاکر نے نوٹ بندی کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور جمہوری اداروں کی کمزوری پر تشویش ظاہر کی ہے۔
آندھرا پردیش کے نرساپورم میں پیدا ہونے والے پرکالا پربھاکر کی ملاقات نرملا سیتارامن سے دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہوئی تھی۔ سیاسی نظریات میں اختلاف کے باوجود دونوں نے 1986 میں شادی کی۔
پربھاکر کا سیاسی سفر 2009 میں اداکار چرنجیوی کی قائم کردہ پرجا راجیم پارٹی سے وابستگی کے ساتھ شروع ہوا۔ بعد ازاں 2014 سے 2018 تک انہوں نے آندھرا پردیش میں چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کی حکومت میں میڈیا کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
اپریل 2018 میں انہوں نے اچانک اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے معاملہ پر اختلافات کے بعد قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے الگ ہوگئی تھی۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ خدشات بھی ظاہر کئے گئے تھے کہ نرملا سیتارامن کی بی جے پی سے وابستگی ریاست کے مفادات سے متعلق پربھاکر کے موقف پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
23 اکتوبر کے احتجاج میں پرکالا پربھاکر کی شرکت سے ایس آئی آر مخالف تحریک کو مزید عوامی توجہ ملنے کی توقع ہے۔



