سونے اور چاندی کی قیتموں پر جنگ کا اثر

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی کشیدگی سونے اور چاندی کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث مہنگائی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس صورتحال میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فی الحال امریکہ کے فیڈرل ریزرو سمیت مرکزی بینک شرحِ سود میں کمی نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ ڈالر کی قدر مضبوط ہونے سے بھی سونے اور چاندی کی مانگ کم ہو رہی ہے۔ عام طور پر جب شرحِ سود کم ہوتی ہے تو سونے اور چاندی کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور ان کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں
جبکہ شرحِ سود زیادہ ہونے پر مانگ سست پڑ جاتی ہے۔اسی تناظر میں عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 5002 ڈالر پر برقرار ہے جبکہ چاندی کی فی اونس قیمت 79 ڈالر ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپیہ 92.38 کی سطح پر ہے۔ اس کے اثر سے ملک کے اندر بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دوپہر ایک بجے کے قریب حیدرآباد کی مارکیٹ میں دس گرام خالص سونے کی قیمت تقریباً 1.60 لاکھ روپے رہی جبکہ چاندی فی کلو 2.58 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ادھر ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (MCX) میں بھی چاندی کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ مئی ڈیلیوری کنٹریکٹ کے تحت فی کلو چاندی کی قیمت 4,232 روپے کم ہو کر 2,55,203 روپے رہ گئی۔
اپریل کنٹریکٹ میں دس گرام سونے کی قیمت تقریباً 1.5 فیصد کم ہو کر 1.56 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔اس ہفتے امریکہ کے فیڈرل ریزرو، بینک آف جاپان، یورپی مرکزی بینک، بینک آف انگلینڈ اور پیپلز بینک آف چائنا الگ الگ اجلاس منعقد کر کے شرحِ سود کے بارے میں فیصلے کرنے والے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تاجر ان فیصلوں پر گہری نظر رکھیں گے۔ خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے فیصلے میں زیادہ دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ مارکیٹ پہلے ہی اندازہ لگا رہی ہے کہ مارچ میں شرحِ سود میں کمی کا امکان کم ہے۔



