مضامین

ویلنٹائن ڈے اور بے حیائی کا سمندر

از قلم :مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

         توپران ضلع میدک تلنگانہ 

    Mufti                

ہر دور میں امتِ مسلمہ کو ایسے فتنوں کا سامنا رہا ہے جو بظاہر نہایت خوشنما، دل فریب اور ترقی یافتہ تہذیب کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایمان، اخلاق، حیا اور خاندانی نظام کو کھوکھلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ فتنہ کبھی فلسفے کے نام پر آیا، کبھی آزادی کے عنوان سے، اور کبھی محبت اور تہذیب کے خوبصورت نعروں کے ساتھ۔ موجودہ دور میں انہی فتنوں میں سے ایک نہایت خطرناک اور خاموش زہر "ویلنٹائن ڈے” کی صورت میں ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کو محض ایک دن یا تہوار سمجھنا بہت بڑی غلط فہمی ہے، درحقیقت یہ ایک مکمل فکر، ایک خاص تہذیبی نظام اور ایک مخصوص اخلاقی فلسفہ کا نمائندہ ہے، جو انسان کو حیوانی خواہشات کا غلام بنا کر اسے حیا، غیرت اور شرم جیسے قیمتی اوصاف سے محروم کر دیتا ہے۔

 

 

اسلام محبت کا مخالف نہیں بلکہ اسے پاکیزہ حدود میں محفوظ کرنے والا دین ہے۔ قرآنِ کریم نے نکاح کے بندھن کو سکون، مودّت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً (الروم: 21)۔ اس آیت میں واضح کیا گیا کہ حقیقی محبت وہ ہے جو ذمہ داری اور دائمی رفاقت کے ساتھ جڑی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو محبت اور خواہش کے حلال راستے کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج (صحیح بخاری، حدیث: 5066؛ صحیح مسلم، حدیث: 1400)۔ اس کے برعکس موجودہ دور میں محبت کو حدود سے آزاد، غیر ذمہ دار اور وقتی جذبات کا نام دے دیا گیا ہے، اور ویلنٹائن ڈے اسی بگڑے ہوئے تصورِ محبت کی علامت ہے۔

 

اسلام نے فواحش کے ظاہر و باطن دونوں سے اجتناب کا حکم دیا: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الاعراف: 33)۔ حیا کو ایمان کا جز قرار دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الحياء شعبة من الإيمان (صحیح بخاری، حدیث: 9؛ صحیح مسلم، حدیث: 35)۔ مزید ارشاد فرمایا: إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت (صحیح بخاری، حدیث: 6120)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حیا رخصت ہو جائے تو انسان کو گناہ سے روکنے والی آخری رکاوٹ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر بے حیائی کو فیشن اور آزادی کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے گناہ معمول اور شرم ناپید ہو جاتی ہے۔

 

قرآنِ کریم نے زنا ہی نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى (الاسراء: 32)۔ غیر محرم مرد و عورت کی خلوت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان الشيطان ثالثهما (جامع ترمذی، حدیث: 2165)۔ اسی طرح غیر اسلامی تہذیبی شعار کی مشابہت سے بھی منع فرمایا: من تشبه بقوم فهو منهم (سنن ابوداؤد، حدیث: 4031)۔ ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام فتنوں کے اسباب کو جڑ سے ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ ویلنٹائن کلچر انہی اسباب کو عام کرتا ہے۔

 

نوجوان نسل اس فتنہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ قرآن نے خواہشِ نفس کی پیروی کو گمراہی قرار دیا: أفرأيت من اتخذ إلهه هواه (الجاثیہ: 23)۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ آزاد تعلقات کے بغیر زندگی ادھوری ہے، جس سے حلال و حرام کا شعور کمزور پڑ جاتا ہے۔ وقتی تعلقات کے نتیجے میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور ٹوٹے ہوئے جذبات جنم لیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے حقیقی سکون کا راستہ اپنے ذکر اور اطاعت میں رکھا ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب (الرعد: 28)۔

 

تعلیمی میدان بھی اس یلغار سے محفوظ نہیں۔ قرآن نے کامیاب مومن کی صفت بیان کی کہ وہ لغویات سے اعراض کرتا ہے: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: 3)۔ جب طلبہ کی توجہ علم کے بجائے رومانوی سرگرمیوں میں الجھ جائے تو تعلیمی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ امام شافعیؒ نے فرمایا کہ علم نور ہے اور نور اللہ گناہ گار کو عطا نہیں ہوتا (دیوان الشافعی، ص 52)۔ اسی طرح اساتذہ کے احترام اور نظم و ضبط کے بغیر تعلیم اپنی روح کھو دیتی ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ليس منا من لم يوقر كبيرنا ويرحم صغيرنا (سنن ترمذی، حدیث: 1920)۔

 

خاندانی نظام بھی اس کلچر سے متاثر ہوتا ہے۔ وقتی اور غیر ذمہ دار تعلقات نکاح کے تقدس کو کمزور کرتے ہیں۔ قرآن نے خاندان کو سکون کا مرکز قرار دیا (الروم: 21)۔ جب معاشرے میں فحاشی عام ہو جائے تو اجتماعی نتائج بھی سامنے آتے ہیں: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (الروم: 41)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب فحاشی علانیہ ہو جائے تو مصیبتیں عام ہو جاتی ہیں (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4019)۔

 

والدین پر بھی اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 6)۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: كلكم راعٍ وكلكم مسؤول عن رعيته (صحیح بخاری، حدیث: 7138؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829)۔ اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس میں کوتاہی کے نتائج دنیا و آخرت دونوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے محض ایک دن نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی یلغار ہے جو محبت کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیتی ہے۔ اسلام محبت کو ذمہ داری، وفاداری اور نکاح کے دائرے میں عبادت بنا دیتا ہے، جبکہ آزادانہ تعلقات کو تباہی کا راستہ قرار دیتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو حیا، ایمان اور اخلاق سے وابستہ نہ رکھا تو معاشرتی زوال ناگزیر ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی حیا اختیار کریں، اپنی اولاد کی تربیت کریں اور محبت کے صحیح اسلامی تصور کو عام کریں۔

 

نوجوانوں کے لیے موبائل بہت بڑے فتنوں کا دروازہ ہے

 

موجودہ دور میں فتنوں کی سب سے بڑی راہ موبائل فون اور سوشل میڈیا بن چکی ہے۔ وہ چیز جو بظاہر ایک سہولت اور ترقی کی علامت ہے، اگر نگرانی کے بغیر ہو تو اخلاقی تباہی کا دروازہ بھی بن سکتی ہے۔ آج اکثر والدین اپنی اولاد کو کم عمری ہی میں اسمارٹ فون دے دیتے ہیں، لیکن اس کے استعمال کی نگرانی نہیں کرتے۔ یہی بے احتیاطی بعد میں بڑے فتنوں کا سبب بنتی ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 6)۔ اس آیت میں صرف خود کی نہیں بلکہ اہل و عیال کی حفاظت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ موبائل کی غیر محدود آزادی دراصل اولاد کو ایسے دروازے پر کھڑا کر دینا ہے جہاں سے بے حیائی، فحاشی اور ناجائز تعلقات بآسانی داخل ہو سکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر دوستیوں کا آغاز عموماً معصوم گفتگو سے ہوتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ وہ جذباتی وابستگی، خفیہ چیٹنگ اور پھر ملاقاتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ابتدا میں والدین کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ان کے گھر کے اندر بیٹھا بچہ کس فکری اور اخلاقی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: كلكم راعٍ وكلكم مسؤول عن رعيته (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)۔ ہر والد اپنے گھر کا نگہبان ہے اور اس سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنی رعیت کی کیسے حفاظت کی۔

 

خصوصاً نوجوان لڑکوں کی جانب سے دیے جانے والے تحائف ایک بڑا فتنہ بن چکے ہیں۔ ابتدا ایک پھول، ایک چاکلیٹ یا کسی تحریری پیغام سے ہوتی ہے، لیکن یہی تحفے دلوں میں تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسلام نے غیر محرم کے ساتھ غیر ضروری تعلق اور جذباتی وابستگی کے تمام راستے بند کیے ہیں، کیونکہ یہ چھوٹے قدم بڑے گناہ تک لے جاتے ہیں۔ قرآن نے زنا ہی نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى (الاسراء: 32)۔ تحائف کا لین دین بظاہر معمولی بات لگتی ہے، لیکن جب وہ غیر محرم کے درمیان ہو تو وہ دلوں میں ایسی وابستگی پیدا کر سکتا ہے جو بعد میں شرعی حدود توڑنے کا سبب بن جائے۔

 

اسی طرح بچیوں کی دوستیوں پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ آج کل “فرینڈشپ” کے نام پر ایسی دوستیاں پروان چڑھتی ہیں جو والدین سے چھپائی جاتی ہیں۔ خفیہ گروپس، چیٹنگ ایپس، اور ویک اینڈ ملاقاتیں رفتہ رفتہ حیا کو کمزور کرتی ہیں۔ والدین اگر صرف ظاہری پابندی لگائیں اور اعتماد کا ماحول پیدا نہ کریں تو اولاد چھپ کر وہی کام کرتی ہے۔ اس لیے نگرانی کے ساتھ ساتھ حکمت، محبت اور تربیت بھی ضروری ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے جو انداز اختیار کیا وہ محبت اور حکمت سے بھرپور تھا (سورۃ لقمان: 13-19)۔ یہی اسوہ والدین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 

گھر کا ماحول بھی اس مسئلے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں دینی فضا، نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت اور باہمی گفتگو کا ماحول ہوگا تو بچے باہر سکون تلاش نہیں کریں گے۔ لیکن اگر گھر میں ہر فرد اپنی دنیا میں مصروف ہو، موبائل ہر ہاتھ میں ہو اور باہمی تعلق کمزور ہو تو نوجوان جذباتی خلا کو باہر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ یہی خلا ویلنٹائن ڈے اور ویک اینڈ کلچر جیسے مظاہر کو تقویت دیتا ہے۔نوجوان لڑکوں کو بھی یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کسی بچی کو تحفہ دینا یا خفیہ تعلق قائم کرنا مردانگی نہیں بلکہ کمزوری ہے۔ اصل غیرت یہ ہے کہ انسان کسی کی بیٹی یا بہن کی عزت کا خیال رکھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے لیے وہی پسند کرے جو اپنے بھائی کے لیے پسند کرتا ہے (صحیح بخاری)۔ اگر کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کے لیے پاکیزہ ماحول چاہتا ہے تو اسے دوسروں کی بیٹیوں کے لیے بھی وہی سوچ رکھنی چاہیے۔

 

اسی طرح بچیوں کو بھی یہ شعور دینا ضروری ہے کہ ہر مسکراہٹ محبت نہیں ہوتی، ہر تعریف خلوص نہیں ہوتی، اور ہر تحفہ خیرخواہی نہیں ہوتا۔ بہت سے تعلقات وقتی جذبات پر مبنی ہوتے ہیں جو بعد میں پشیمانی کا سبب بنتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیں، ان سے کھل کر گفتگو کریں، ان کی دوستوں سے واقف ہوں اور ان کے سماجی حلقے سے باخبر رہیں۔مزید یہ کہ موبائل کے استعمال کے لیے گھریلو اصول مقرر کیے جائیں۔ مثلاً رات کے اوقات میں فون والدین کے پاس رکھے جائیں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی ہو، اور کم عمری میں غیر ضروری انٹرنیٹ رسائی محدود کی جائے۔ یہ پابندیاں سختی نہیں بلکہ حفاظت ہیں۔ جس طرح والدین اپنے بچے کو خطرناک راستے پر تنہا نہیں چھوڑتے، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا کے خطرناک راستوں پر بھی تنہا نہ چھوڑیں۔

 

ویلنٹائن ڈے اور ویک اینڈ کلچر دراصل انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب موبائل غیر محدود ہو، نگرانی نہ ہو، تحائف کا لین دین عام ہو اور دوستیاں خفیہ ہوں تو بے حیائی کو فروغ ملتا ہے۔ اس کا علاج صرف وقتی تقریریں نہیں بلکہ گھریلو اصلاح، مستقل نگرانی اور دینی تربیت ہے۔

۔

*نوجوانوں کے نام ایک مخلصانہ پیغام*

اے امتِ مسلمہ کے نوجوانوں

تم اس قوم کی امید ہو جسے اللہ تعالیٰ نے خیرِ امت قرار دیا ہے۔ تمہاری جوانی محض جذبات کا نام نہیں بلکہ امانت ہے، تمہاری آنکھیں، تمہارا دل اور تمہارا وقت سب اللہ کی عطا ہیں اور ایک دن ان سب کا حساب دینا ہوگا۔ وقتی محبتوں، نمائشی تعلقات اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں کھو جانا تمہاری شان کے خلاف ہے۔

یاد رکھو! جس محبت کو آج تم آزادی سمجھ رہے ہو، وہ کل پشیمانی بھی بن سکتی ہے۔ جس تعلق کو تم خفیہ رکھ رہے ہو، وہ تمہارے سکون اور مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسلام تمہارے جذبات کو دبانا نہیں چاہتا بلکہ انہیں عزت اور تحفظ کے ساتھ صحیح راستہ دینا چاہتا ہے۔ نکاح کے ذریعے محبت عبادت بن جاتی ہے، لیکن حرام تعلق دل کو بے چین اور روح کو کمزور کر دیتا ہے۔

 

تمہاری جوانی عبادت، علم، محنت اور مقصد کے لیے ہے۔ یہی وہ عمر ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک اپنی جوانی کے بارے میں جواب نہ دے دے کہ اسے کہاں خرچ کیا۔ (سنن ترمذی)

آج دنیا تمہیں ویلنٹائن ڈے اور ویک اینڈ کلچر کے نام پر آزادی کا نعرہ دیتی ہے، لیکن حقیقی آزادی خواہشات کی غلامی سے نکلنے میں ہے۔ اصل کامیابی نفس پر قابو پانے میں ہے، نہ کہ نفس کے پیچھے چلنے میں۔اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو، اپنے وقت کی قدر کرو، اپنے والدین کا اعتماد مت توڑو، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرو۔ اگر تم نے اپنی جوانی کو حیا، تقویٰ اور مقصد کے ساتھ گزار لیا تو دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی کامیاب ہو جائے گی۔

 

اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو ایمان کی مضبوطی، حیا کی زینت اور مقصدِ زندگی کی صحیح پہچان عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button