نیشنل

واٹس ایپ پرائیویسی معاملہ: سپریم کورٹ کی میٹا کو وارننگ، قوانین نہ مانے تو بھارت چھوڑنے کی ہدایت

دہلی:   واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اس کی ماتحت کمپنی میٹا (Meta) پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے واضح الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “آپ ہمارے ملک کی پرائیویسی سے کھیل نہیں سکتے۔ ہمارے ڈیٹا کا ایک بھی ہندسہ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر ملک کے قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا تو بھارت چھوڑنے کا راستہ کھلا ہے۔”

 

یہ ریمارکس 2021 میں واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کے خلاف دائر عرضی کی سماعت کے دوران دیے گئے۔

 

حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ واٹس ایپ اپنے تجارتی مفادات کے لئے صارفین کا ڈیٹا میٹا کے ساتھ شیئر کر رہا ہے، جو کہ استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میٹا کو تنبیہ کی اور کہا کہ بعض اوقات خود انہیں بھی میٹا کی پالیسیوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

 

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ انہیں واٹس ایپ پر کسی ڈاکٹر کی جانب سے دوا کی پرچی موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد اسی دوا سے متعلق اشتہارات ان کے فون پر نظر آنے لگے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جب یہ پالیسی سمجھنا ان جیسے لوگوں کے لئے مشکل ہے تو ملک کے لاکھوں غریب اور ناخواندہ شہری انہیں کیسے سمجھ پائیں گے۔

 

واضح رہے کہ جنوری 2021 میں واٹس ایپ نے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے متعلق معلومات فیس بک کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت دی گئی تھی

 

۔ ابتدا میں واٹس ایپ نے نئی پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، جس پر ملک بھر میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ناقدین نے اسے ذاتی رازداری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

 

بعد ازاں مرکزی حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے اس پالیسی کے نفاذ کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ نئی پالیسی انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کی دفعات کے سراسر منافی ہے۔ اسی پالیسی کے خلاف دائر عرضی پر حالیہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ سخت ریمارکس دیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button