غیر مسلم شخص کی اردو سے بے مثال محبت۔ تلنگانہ کے بھوپتی زندہ مثال

مدہول، 12 فروری (شفیع اللہ خان، سینیئر جرنلسٹ)
ریاست تلنگانہ ضلع نرمل مدہول مستقر کی ایک باوقار اور قابلِ تقلید شخصیت بی بھوپتی ہیں جنہوں نے اس دور میں اردو زبان سیکھ کر ایک مثالی مثال قائم کی ہے جب خود اردو داں طبقہ بھی اس زبان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
بی بھوپتی کے نانا مدہول مستقر میں اردو کے استاد تھے۔ اسی نسبت اور گھریلو ماحول کی بدولت انہیں اردو زبان سے فطری لگاؤ پیدا ہوا۔ اگرچہ وہ پیشہ ورانہ طور پر اردو سے وابستہ نہیں تھے لیکن شوق اور محنت کے ذریعے انہوں نے اردو پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا۔
مسلسل اردو اخبارات کے مطالعہ نے ان کی زبان پر ایسی گرفت مضبوط کی کہ آج وہ روانی اور فہم کے ساتھ اردو پڑھتے ہیں۔ وہ گزشتہ پندرہ برسوں سے روزنامہ "منصف” کے مستقل قاری ہیں اور باقاعدگی سے اخبار خرید کر مطالعہ کرتے ہیں۔ اس پُر فتن اور مادہ پرستی کے دور میں ایک غیر مسلم شخصیت کا اس طرح اردو زبان سے محبت کرنا نہایت قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہے۔
اکثر لوگ جب انہیں اردو اخبار دلچسپی اور روانی سے پڑھتے دیکھتے ہیں تو حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ کس قدر عمدگی سے مفہوم کو سمجھتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جہاں ایک طرف غیر مسلم طبقہ اردو سے رغبت دکھا رہا ہے وہیں دوسری طرف خود اردو بولنے والا طبقہ آہستہ آہستہ اس زبان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
عام طور پر لوگ روزگار کے حصول تک اردو کی بات کرتے ہیں لیکن جیسے ہی سرکاری یا اچھی ملازمت مل جاتی ہے توجہ کا مرکز انگریزی زبان بن جاتی ہے۔آج کا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم تعلیم دلوانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بعض سیاسی و سماجی قائدین جو اردو کے علمبردار کہلاتے ہیں خود اردو اخبارات خریدنے سے گریزاں ہیں۔نتیجہ میں اردو اخبارات کی اشاعت اور سرکولیشن دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے جو زبان کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہم واقعی اردو کو زندہ اور تابندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ محض تقریروں اور دعوؤں سے زبانیں زندہ نہیں رہتیں بلکہ انہیں روزمرہ زندگی میں اپنانا پڑتا ہے۔ مسلم سماج کو چاہیے کہ وہ اردو اخبارات خرید کر مطالعہ کو معمول بنائے بالکل اسی طرح جیسے بی بھوپتی صاحب برسوں سے مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ آج بہت سے افراد اردو اخبارات خریدنے کے بجائے صرف ان میں اپنا نام تلاش کرنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ اگر اردو کو فروغ دینا ہے تو ہمیں خریداری اور مطالعہ کا رجحان عام کرنا ہوگا۔ جب تک ہم خود اپنی زبان کی قدر نہیں کریں گے دوسروں سے اس کی توقع بے معنی ہوگی۔
بی بھوپتی جیسے افراد دراصل ہمارے لیے آئینہ ہیں جو ہمیں ہماری کوتاہیوں کا احساس دلاتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ زبان سے محبت مذہب یا ذات کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ خلوص اور شوق کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔



