ایجوکیشن

تعلیم سے روزگار تک کا سفر، CEDM نظام کالج میں ٹیٹ کوچنگ کی اختتامی تقریب  ڈائریکٹر پروفیسر ایس اے شکور صاحب کا بصیرت افروز خطاب۔

تعلیم سے روزگار تک کا سفر، CEDM نظام کالج میں ٹیٹ کوچنگ کی اختتامی تقریب

ڈائریکٹر پروفیسر ایس اے شکور صاحب کا بصیرت افروز خطاب۔

 

مرکزِ تعلیمی ترقی برائے اقلیتی طبقات، نظام کالج، حیدرآباد میں اساتذہ کے اہلیتی امتحان (ٹیٹ) کی کوچنگ کے اختتام کے موقع پر ایک پُروقار اور باوقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت ڈائریکٹر مرکزِ تعلیمی ترقی برائے اقلیتی طبقات جناب ڈاکٹر پروفیسر ایس اے شکور صاحب نے فرمائی، جب کہ مختلف شعبۂ تعلیمات سے وابستہ معزز سرکاری اساتذۂ کرام، کوچنگ سے مستفید ہونے والے طلبہ و طالبات اور منتظمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

 

تقریب کا آغاز تعلیمی و فکری ماحول میں ہوا جہاں ابتدا ہی سے سنجیدگی، وقار اور علمی ذوق نمایاں نظر آیا۔ اس موقع پر ٹی ای ٹی کوچنگ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ڈائریکٹر صاحب کے دستِ مبارک سے ان کی شال پوشی اور یادگاری مومنٹو پیش کیے گئے۔ جن اساتذہ کو اعزاز سے نوازا گیا ان میں بالترتیب سید رؤف ریحان صاحب، سید نوید اختر صاحب، عبدالصمد صاحب، احمد علی طیب صاحب، عبدالرحمن صاحب، مسرت بیگم صاحبہ، زبیدہ بیگم صاحبہ، عبدالمجاہد صاحب، محمد واحد صاحب ، محمد نعیم صاحب اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح کوچنگ کے نظم و نسق میں نمایاں کردار ادا کرنے والے کوآرڈینیٹرز کریم النسا اور محمد کاظم صاحب کو بھی شال اور مومنٹو پیش کر کے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔

 

تقریب کا ایک نہایت اہم اور یادگار مرحلہ وہ تھا جب جناب شاہد علی حسرت صاحب نے ڈایریکٹر سی ای ڈی ایم ڈاکٹر پروفیسر ایس اے شکور صاحب کی شان میں ایک جامع، فکر انگیز اور پُراثر سپاس نامہ پیش کیا۔ اس سپاس نامے میں مرکز کے شعبۂ تعلیمات کے ذریعے اقلیتی طبقات، امتِ مسلمہ اور سرکاری ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر خدمات کا تفصیلی ذکر کیا گیا۔ جب یہ سپاس نامہ ترنم اور تاثیر کے ساتھ پڑھ کر سنایا گیا تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور حاضرین نے اسے بے حد سراہا۔

 

بعد ازاں مختلف اساتذۂ کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کی۔ سید رؤف ریحان صاحب نے اپنے خطاب میں مستقل مزاجی کو کامیابی کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو افراد استقامت کے ساتھ محنت کرتے ہیں، کامیابی خود ان کے قریب آ جاتی ہے۔ سید نوید اختر صاحب نے نظام کالج کے تعلیمی ماحول کو سیکھنے سکھانے کے لیے نہایت سازگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سیکھا گیا ہر لفظ امتحان میں کامیابی کی ایک مضبوط سیڑھی بنتا ہے۔ عبدالصمد صاحب نے طلبہ کو تلقین کی کہ کامیابی دراصل روزانہ کی جانے والی مسلسل محنت کا ہی ثمرہ ہوتی ہے۔ عبدالمجاہد صاحب نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی مضمون بذاتِ خود مشکل نہیں ہوتا بلکہ اس کے بنیادی اور کلیدی تصورات کو سمجھ لینے سے کامیابی کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔ محمد واحد صاحب نے کہا کہ اگر طلبہ وقت سے پہلے نصاب اور اس کے بنیادی نکات سے واقف ہو جائیں تو امتحان میں درست جواب تک پہنچنا نہایت سہل ہو جاتا ہے۔ مسرت بیگم صاحبہ نے سخت سردی کے موسم میں بھی رات آٹھ بجے تک طلبہ کی مستقل حاضری اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ یہی محنت انہیں کامیابی کے مزید قریب لے جائے گی۔

 

تقریب کے اختتامی مرحلے میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پروفیسر ایس اے شکور صاحب نے قوم و ملت کے لیے مرکز کی جانب سے انجام دی جانے والی تعمیری اور فکری خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ذمہ داریاں آتی ہیں تو انہیں قبول کرنا چاہیے، کیوں کہ ذمہ داریاں ہی انسان کی اہلیت کو ثابت کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ذمہ داری انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے اور اس کی شخصیت کی تعمیر میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منزلیں چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں، راستے ہمیشہ قدموں کے نیچے سے ہی ہو کر گزرتے ہیں۔ ان کے بصیرت افروز خطاب پر حاضرین نے پرجوش تالیاں بجا کر داد دی اور ان خیالات پر عمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

آخر میں محترمہ زکیہ بیگم صاحبہ نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور پروگرام کے کامیاب انعقاد میں حصہ لینے والے منتظمین عتیقہ جمیل، عائشہ مبین، معراج فاطمہ، محمد ساجد،محمد سجاد اور دیگر معاونین کی شال پوشی کر کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس طرح یہ علمی و تعلیمی تقریب خوشگوار یادوں اور حوصلہ افزا پیغامات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button