تلنگانہ

اگر میں پارٹی بناتی ہوں تو اس کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوام کی بھلائی ہوگا : رکن کونسل کویتا

عوام کی فلاح و بہبود ہی تلنگانہ جاگروتی کا نصب العین

عوامی مسائل کی سماعت اور یکسوئی کے لئے جنم باٹا موثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا: کے کویتا

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے یادادری لکشمی نرسمہا سوامی مندر میں پوجا کی اور پراتھنا کی کہ ان کے چار ماہ طویل جنم باٹا پروگرام کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے اور انہیں عوامی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کے حل کے لئے قوت ملے۔کویتا نے کہا کہ مندر میں درشن کے لئے آج جاگروتی کے متعدد رہنما میرے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ گزشتہ روز تروپتی مندر کا درشن کیا گیا تھااور آج یادادری سوامی کا آشیرواد حاصل ہوا۔

 

انہوں نے بتایا کہ ‘جنم باٹا ’ پروگرام 25 اکتوبر سے شہر نظام آباد سے شروع ہوگا اور یہ مہم تقریباً چار ماہ تک جاری رہے گی۔ اس دوران وہ ریاست کے تمام 33 اضلاع کا دورہ کریں گی اور ہر ضلع میں دو روز قیام کے دوران عوامی مسائل کو براہ راست سماعت کریں گی۔ اس پروگرام کا مقصد مختلف طبقات، دانشوروں، اساتذہ، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین سے براہ راست ملاقات اور ان کے مسائل کو جاننا اور حل کے لئے موثر حکمت عملی تیار کرنا ہے۔کویتا نے کہا کہ ہم عوام سے قریبی رابطے کے ذریعہ ان کے مسائل سمجھنے اور ان کے حل کے لئے ‘جنم باٹا ’ کو ایک موثر ودیکا (پلیٹ فارم) بنائیں گے۔یادادری کی تعمیر نو پر اظہار خیال کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے یادادری کو شاندار طور پر ازسرنو تعمیر کیا

 

اور اس کی عظمت کو بحال کیا۔ انہوں نے موجودہ حکومت سے اپیل کی کہ یادادری کی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ یہاں پہنچیں تو بعض ہورڈنگس دیکھنے میں آئیں جو موقر مذہبی مقامات جیسے تروپتی میں سوامی کے ہورڈنگس کی طرز پر تھے۔ کویتا نے اعلان کیا کہ وہ جلد دوبارہ یادادری کا دورہ کریں گی اوریہاں کے تمام عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کریں گی

 

۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے طور پر 19 سال قبل قائم کی گئی تھی، جو عوامی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ریاست کے سماجی و ثقافتی معاملات میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال ایک سیول سوسائٹی کے طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن اگر عوام چاہیں کہ ہم سیاسی سطح پر بھی فعال ہوں، تو ہم اس پر غور کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے

 

۔ خواہ یہ تنظیم رہے یا سیاسی پارٹی، ہمارا مقصد صرف عوامی فلاح ہوگا۔ اگر میں پارٹی بناتی ہوں تو اس کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوام کی بھلائی ہوگا۔

 

کویتا نے آخر میں کہا کہ ‘جنم باٹا ’ عوامی رائے جاننے کا ایک نیا باب ثابت ہوگا، جس کے ذریعہ عوامی ترجیحات اور مسائل کو براہ راست سامنے لایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بہتر اور عوام دوست پالیسیاں مرتب کی جاسکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button