اقلیتی فلاح و بہبود پر بی آر ایس کا 2026 کیلنڈر جاری، کانگریس پر وعدہ خلافی کا الزام

بی آر ایس نے 2026 کا کیلنڈر جاری کیا، اقلیتی فلاح و بہبود کی وراثت اجاگر، کانگریس پر وعدہ خلافی کا الزام
حیدرآباد، 9 جنوری: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے۔ ٹی۔ راما راؤ نے جمعرات کو تلنگانہ بھون میں اقلیتی فلاح و بہبود پر مبنی 2026 کا کیلنڈر جاری کیا۔ یہ کیلنڈر بی آر ایس کے سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے مرتب کیا ہے، جس میں گریگورین اور ہجری دونوں تقویم شامل ہیں اور اس میں پارٹی سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ کے۔ چندر شیکھر راؤ کے اقوال درج ہیں۔
یہ کیلنڈر بی آر ایس کے دس سالہ دورِ اقتدار کا ایک جائزہ پیش کرتا ہے، جس میں مسلم اقلیت کے لیے شروع کی گئی فلاحی اسکیمات اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان میں شادی مبارک اسکیم، کے سی آر کٹس کی تقسیم، ٹی ایم آر ای آئی ایس کے تحت اقلیتی رہائشی اسکولوں کا قیام اور ہر سال افطار پارٹیوں کا انعقاد شامل ہے۔ اس کے علاوہ نئے سیکریٹریٹ میں مساجد کی تعمیر، انیس الغربا کی بازآبادکاری، اردو مسکن اور جامعہ نظامیہ آڈیٹوریم جیسے اداروں کی ترقی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
کیلنڈر میں بی آر ایس کے دور میں حاصل ہونے والی سیاسی نمائندگی کی کامیابیوں کا بھی ذکر ہے، جن میں محمود علی کو ریاست کا پہلا مسلم نائب وزیر اعلیٰ اور بعد ازاں وزیر داخلہ مقرر کیا جانا، مسلم ایم ایل سیز کی نامزدگی اور اقلیتی کارپوریشنوں میں مسلم سربراہان کی تقرری شامل ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین نے کہا کہ یہ کیلنڈر جامع ترقی کا ریکارڈ ہے اور پارٹی کے طرزِ حکمرانی میں محروم طبقات کو بااختیار بنانا مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تعلیم، وقار اور مساوی مواقع کو فلاحی ایجنڈے کے بنیادی ستون قرار دیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبداللہ سہیل نے بی آر ایس حکومت کی ستائش کی اور کہا کہ اس دور میں اقلیتوں کو نہ صرف شناخت بلکہ عوامی زندگی میں موثر آواز بھی ملی، جو محض نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی بااختیاری کی مثال ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقلیتی مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے اقلیتی منشور کا ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا، دو برس میں مختص بجٹ کا آدھا بھی خرچ نہیں کیا گیا، اقلیتی سب پلان محض اعلان تک محدود رہا اور نوجوانوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی والے قرضے کا وعدہ کاغذوں میں ہی اٹکا ہوا ہے۔
اس موقع پر ایم ایل سی ڈاکٹر داسوجو شراون اور بی آر ایس کے دیگر سینئر قائدین بھی موجود تھے۔




