ایل نینو کے اثرات سے سنگین بحران کا خدشہ، آئندہ 8 سے 10 ماہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے: چیف منسٹر ریونت ریڈی

حیدرآباد: 23 اکتوبر (اردو لیکس) تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث ریاست کو آئندہ 8 سے 10 ماہ تک خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی سے نمٹنے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے اور پانی و برقی کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پر جا بھون میں منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا، پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء، ارکان اسمبلی و کونسل اور سینئر قائدین نے ایل نینو کے اثرات، گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا
۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ایل نینو کے اثرات دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ ترقی یافتہ ریاست مہاراشٹرا بھی پانی کی قلت سے متاثر ہے، جہاں پانی کے استعمال میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ خشک سالی کو کانگریس حکومت کی پیدا کردہ صورتحال قرار دیتے ہوئے بی آر ایس قائدین غلط پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ حکومت گزشتہ چھ ماہ سے عوام کو ممکنہ خشک سالی کے بارے میں خبردار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ قبل ایل نینو کے اثرات زیادہ نمایاں نہیں تھے اور کسی طرح خریف کی فصلوں کے مرحلے سے باہر نکلنے میں کامیابی ملی۔
چیف منسٹر نے بتایا کہ آئندہ چار ماہ کے دوران زراعت کے لیے پانی دستیاب ہونا مشکل ہے۔ جب پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنا ہی ایک بڑا چیلنج ہو تو زراعت کے لیے پانی کہاں سے فراہم کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور عوام کو پہلے ہی اس سے واقف کروانا بہتر ہے۔ جب آبپاشی کے لیے پانی ہی دستیاب نہ ہو تو زراعت کے لیے برقی فراہم کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح 20 فیصد بھی نہیں رہ گئی ہے، جبکہ کرشنا طاس کے ذخائر میں بھی 200 ٹی ایم سی سے کم پانی موجود ہے۔ ایسے حالات میں پانی کا محتاط استعمال ضروری ہے۔ رواں سال برقی کی کھپت 20 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے اور مہنگی قیمت ادا کرنے کے باوجود برقی حاصل کرنا مشکل ہورہا ہے۔
ریونت ریڈی نے سرکاری دفاتر میں دن کے وقت پنکھوں کے استعمال سے گریز، ایئر کنڈیشنر کا استعمال کم کرنے اور شمسی توانائی کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت مشکل ہوسکتا ہے، اس لیے عوام کو ابھی سے چوکس کرنا ضروری ہے۔ مویشیوں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چیف منسٹر نے کانگریس قائدین کو ہدایت دی کہ وہ عوام کے درمیان جاکر حکومت کا موقف اور زمینی حقائق واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو صورتحال سے درست طور پر واقف نہیں کروایا گیا تو بی آر ایس کے پروپیگنڈے کو تقویت ملے گی اور کانگریس کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔




