تلنگانہ حکومت نفرت پر مبنی بیانات کے خلاف سخت قانون تشکیل دے – ایس آئی او کی راؤنڈ ٹیبل میٹ – مسلم اور عیسائی رہنماؤں نے کی شرکت

تلنگانہ حکومت نفرت پر مبنی بیانات کے خلاف سخت قانون تشکیل دے
ایس آئی او کی راؤنڈ ٹیبل میٹ – مسلم اور عیسائی رہنماؤں نے کی شرکت
حیدرآباد (پریس نوٹ): اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) تلنگانہ کی جانب سے ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (ایچ ایم آئی) کے اشتراک سے ایک اہم افطار میٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت پر مبنی واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا.
اس پروگرام میں عیسائی اور مسلم کمیونٹی کے قائدین شریک رہے. جن میں قابل ذکر محمد فراز احمد، صدر ایس آئی او تلنگانہ؛ عاطف اسماعیل، سیکرٹری جے آئی ایچ تلنگانہ؛ پیکیئم ٹی سیموئل، ڈائریکٹر ایچ ایم آئی؛ کونڈاویٹی انتھائیا، سیکرٹری فیڈریشن آف تلگو چرچز؛ راجیسواری سلمان؛ اور ریو بیسئے پول، جنرل سیکرٹری بائبل سوسائٹی آف انڈیا شامل تھے۔ کئی پادری، سکالرز اور کمیونٹی نمائندوں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
اس پروگرام خطاب کرتے ہوئے محمد فراز احمد نے سب سے پہلے رمضان کی روحانی اہمیت، تقویٰ اور خود پر قابو کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ماہ مقدس کے دوران مسلمانوں کے خلاف حالیہ تشدد کے واقعات کا ذکر کیا، جیسے لکھنؤ میں 13 سالہ روزہ دار بچے پر فائرنگ اور بہار میں 65 سالہ شخص کی لنچنگ، انہوں نے زور دیا کہ ایسے واقعات انسانی زندگی کی حرمت کو پامال کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس پروگرام کے ذریعے ایس آئی او کا مقصد تمام کمیونٹیوں کے ساتھ، خاص طور پر عیسائی برادری کے ساتھ، جو خود بھی ان واقعات کا سامنا کر رہے ہیں، بامقصد انٹرفیتھ ڈائیلاگ کا آغاز کرنا ہے اور مشترکہ لائحہ عمل کو ترتیب دینا یے۔“
میٹنگ میں دیگر لیڈرز نے بھی مسلم، عیسائی اور دیگر اقلیتی کمیونٹیوں کے سامنے آنے والی مختلف چیلنجز کو اجاگر کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ بڑھتی ہوئی پولرائزیشن نے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے تاریخی طور پر کمیونل ہارمونی کے لیے کیے گئے مشترکہ اقدامات کی مثالیں دیں اور موجودہ حالات میں ایسی انٹرفیتھ یکجہتی کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اجتماعی طور پر حکومت سے آنے والے اسمبلی سیشن میں نفرت پر مبنی بیانات کے خلاف سخت قانون لانے کا مطالبہ کیا، اور امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنے اینٹی ہرٹ اسپیچ لاء لانے کے یقین دہانی کو پورا کریں گے تاکہ سماج میں امن برقرار رہے اور تمام شہریوں کی وقار کی حفاظت ہو سکے۔




